سلمان آغا کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک کپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے انداز قیادت نے تھنک ٹینک کا دل جیت لیا، سلمان آغا کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک عہدے پر برقرار رہنے کا امکان روشن ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق حکام کو ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ نے سب سے زیادہ متاثر کیا، انہیں لگتا ہے کہ پلیئرز یکجا ہو کر کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔
دوسری جانب دورہ سری لنکا کیلیے اسکواڈ میں شاداب خان کی واپسی متوقع ہے، وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور پریکٹس کر رہے ہیں، بگ بیش لیگ میں ان کی میچ فٹنس جانچی جائے گی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 فروری، مارچ میں کھیلا جائے گا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا کریں گے۔
پاکستان کی قیادت ان دنوں سلمان علی آغا نے سنبھالی ہوئی ہے، بعض حلقوں کا خیال تھا کہ شاداب خان کی بطور کپتان واپسی ہو سکتی ہے، شاہین شاہ آفریدی کو بھی ذمہ داری سونپنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔
البتہ اس حوالے سے رابطے پر پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ سلمان علی آغا کے ہی میگا ایونٹ میں کپتان برقرار رہنے کا امکان ہے۔
تھنک ٹینک میں شامل ایک اور آفیشل نے بھی یہی کہا کہ سلمان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کر دیا ہے، ان کے دور میں فائٹنگ اسپرٹ لوٹ آئی، پلیئرز یکجا ہو کر ٹیم کی فتح کیلیے جان لڑاتے نظر آتے ہیں، اس لیے کسی تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں لگتی۔
یاد رہے کہ 2025 کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان سب سے زیادہ 21 فتوحات حاصل کرنے والی فل ممبر ٹیم ہے۔
سلمان نے اپنے کیریئر کے 40 میں سے 38 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز بطور کپتان کھیلے ہیں۔
انھوں نے بطور قائد 24.
بابر اعظم 48 اور سرفراز احمد 29 میچز میں کامیاب رہے تھے۔
سلمان کی زیر قیادت حال ہی میں پاکستان نے سہ ملکی سیریز جیتی، اس سے قبل ایشیا کپ کے فائنل میں بھی رسائی حاصل کی تھی۔
سلمان علی آغا کی کپتانی تو بہتر ہے لیکن بطور بیٹر ان کی کارکردگی پرسوال اٹھتے نظر آتے ہیں، البتہ انہوں نے حالیہ سہ ملکی سیریز میں سری لنکا کیخلاف 63 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی تھی۔
دوسری جانب شاداب خان کی بطور عام کھلاڑی سری لنکا کیخلاف سیریز میں واپسی متوقع ہے، وہ آخری بار جون میں بنگلادیش کیخلاف ہوم سیریز کے دوران ایکشن میں دکھائی دیے تھے۔
شاداب نے کچھ عرصے قبل لندن میں کندھے کی سرجری کروائی تھی، فٹ ہونے کے بعد وہ ان دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں بھرپور مشقیں کر رہے ہیں، البتہ میچ پریکٹس کی کمی ہے۔
سلیکٹرز و ٹیم مینجمنٹ شاداب کی فٹنس سے مطمئن ہے، بگ بیش لیگ کے دوران ان کی کارکردگی کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
آسٹریلوی ایونٹ 14 دسمبر کو شروع ہو رہا ہے، منتخب پاکستانی کرکٹرز کی آئندہ ہفتے روانگی ہوگی۔
سری لنکا سے سیریز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو واپس بلوا لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلمان علی آغا ٹی ٹوئنٹی سری لنکا
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔