بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے قبضے کا ماڈل دہرا رہا ہے، آل پارٹیز حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
آل پارٹیز حریت کانفرنس نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و جبر پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسرائیلی طرز کے قبضے کا ماڈل دہرا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود کشمیری بھارت کے خلاف برسرپیکار
آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی طرز کے قبضے کا ماڈل دہرا رہا ہے، جس کے تحت قتل و غارت، گرفتاریوں، گھروں کی مسماری، جائیدادوں کی ضبطی اور سرکاری ملازمین کی جبری برطرفیوں کے ساتھ ساتھ آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی گھناؤنی کوششیں جاری ہیں۔
حریت کانفرنس نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کرے اور کشمیر تنازع کے منصفانہ حل کو یقینی بنائے، جس کا تعین اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہو۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 631 غیر مقامی افراد کو زمین کی منتقلی، آبادیاتی تبدیلی کے خدشات میں اضافہدوسری جانب نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد اگست 2019 سے اب تک 631 غیر مقامی افراد کو مقبوضہ علاقے میں زمین دی جاچکی ہے، جس سے مقبوضہ خطے کی آبادیاتی شناخت تبدیل کرنے کے خدشات مزید گہرا گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں معمول بن گئیں
یہ انکشاف اس بات کی تازہ ترین تصدیق ہے کہ پانچ اگست 2019 کے متنازع آئینی اقدامات کے بعد سے غیر مقامی افراد کو زمین کے منتقل کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت بیرونی افراد کو پہلی بار کشمیر میں جائیداد خریدنے کی اجازت دی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت حریت کانفرنس عبدالرشید منہاس مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت حریت کانفرنس عبدالرشید منہاس حریت کانفرنس افراد کو
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔