data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سان فرانسسکو: ای کامرس کی عالمی دیو ایمیزون نے منگل سے اپنے کارپوریٹ شعبے کے تقریباً 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق، کمپنی نے یہ فیصلہ اخراجات میں کمی اور کرونا وبا کے دوران ہونے والی غیر معمولی بھرتیوں کے ازالے کے لیے کیا ہے۔ اس اقدام سے متعدد شعبے متاثر ہوں گے، جن میں ہیومن ریسورسز، آپریشنز، ڈیوائسز اینڈ سروسز، اور ایمیزون ویب سروسز (AWS) شامل ہیں۔

یہ تعداد اگرچہ ایمیزون کے 15 لاکھ 50 ہزار کل ملازمین کا ایک چھوٹا حصہ ہے، تاہم کارپوریٹ عملے (تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد) میں یہ 10 فیصد کمی بنتی ہے۔ اگر منصوبہ مکمل ہوا تو یہ 2022 کے بعد کمپنی کی سب سے بڑی چھانٹی ہوگی، جب 27 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔

ایمیزون کے سی ای او اینڈی جیسّی نے رواں سال جون میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال سے مستقبل میں مزید نوکریوں میں کمی متوقع ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں روایتی اور دہرانے والے کام خودکار بنائے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمیزون نے اپنے کارپوریٹ ڈھانچے میں AI کے ذریعے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے عملے میں کمی ممکن ہو سکی۔ تجزیہ کار اسکائی کنیویس نے کہا کہ کمپنی پر دباؤ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو طویل المدتی سرمایہ کاری کے طور پر مستحکم کرے۔

ایمیزون کے ترجمان نے تاحال اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چھانٹی کی اصل تعداد وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے کیونکہ کمپنی اپنی مالی ترجیحات کے مطابق منصوبے میں تبدیلی کر سکتی ہے۔

دوسری جانب، ایمیزون کا سب سے منافع بخش شعبہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ یونٹ (AWS) ہے، جس کی دوسری سہ ماہی میں فروخت 30.

9 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.5 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم یہ اضافہ مائیکروسافٹ کے ایژر (Azure) کے 39 فیصد اور گوگل کلاؤڈ کے 32 فیصد اضافے کے مقابلے میں کم سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، رواں سال اب تک 216 ٹیکنالوجی کمپنیوں میں مجموعی طور پر 98 ہزار نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 1 لاکھ 53 ہزار تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف