اے آئی کے اثرات، ایمیزون نے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: ای کامرس کی عالمی دیو ایمیزون نے منگل سے اپنے کارپوریٹ شعبے کے تقریباً 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق، کمپنی نے یہ فیصلہ اخراجات میں کمی اور کرونا وبا کے دوران ہونے والی غیر معمولی بھرتیوں کے ازالے کے لیے کیا ہے۔ اس اقدام سے متعدد شعبے متاثر ہوں گے، جن میں ہیومن ریسورسز، آپریشنز، ڈیوائسز اینڈ سروسز، اور ایمیزون ویب سروسز (AWS) شامل ہیں۔
یہ تعداد اگرچہ ایمیزون کے 15 لاکھ 50 ہزار کل ملازمین کا ایک چھوٹا حصہ ہے، تاہم کارپوریٹ عملے (تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد) میں یہ 10 فیصد کمی بنتی ہے۔ اگر منصوبہ مکمل ہوا تو یہ 2022 کے بعد کمپنی کی سب سے بڑی چھانٹی ہوگی، جب 27 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔
ایمیزون کے سی ای او اینڈی جیسّی نے رواں سال جون میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال سے مستقبل میں مزید نوکریوں میں کمی متوقع ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں روایتی اور دہرانے والے کام خودکار بنائے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمیزون نے اپنے کارپوریٹ ڈھانچے میں AI کے ذریعے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے عملے میں کمی ممکن ہو سکی۔ تجزیہ کار اسکائی کنیویس نے کہا کہ کمپنی پر دباؤ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو طویل المدتی سرمایہ کاری کے طور پر مستحکم کرے۔
ایمیزون کے ترجمان نے تاحال اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چھانٹی کی اصل تعداد وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے کیونکہ کمپنی اپنی مالی ترجیحات کے مطابق منصوبے میں تبدیلی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب، ایمیزون کا سب سے منافع بخش شعبہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ یونٹ (AWS) ہے، جس کی دوسری سہ ماہی میں فروخت 30.
رپورٹس کے مطابق، رواں سال اب تک 216 ٹیکنالوجی کمپنیوں میں مجموعی طور پر 98 ہزار نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 1 لاکھ 53 ہزار تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔