ایمیزون کا اپنے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ، تاریخی ڈاؤن سائزنگ کی وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ایمیزون آئندہ ہفتے سے دنیا بھر میں تقریباً 30 ہزار کارپوریٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے اخراجات کم کرنے اور کووِڈ وبا کے دوران کی گئی زائد بھرتیوں کے اثرات کو متوازن کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چھانٹی کا آغاز منگل سے ہوگا اور اس سے کمپنی کے مختلف شعبے متاثر ہوں گے، جن میں ہیومن ریسورسز، پیپل ایکسپریئنس اینڈ ٹیکنالوجی، آپریشنز، ڈیوائسز اینڈ سروسز، اور ایمیزون ویب سروسز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
یہ ایمیزون کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈاون سائزنگ ہوگی، جو 2022 کے اواخر میں ہونے والی 27 ہزار ملازمین کی چھانٹی سے بھی زیادہ ہے۔ کمپنی کے تقریباً 3.
سی ای او اینڈی جیسی نے حالیہ مہینوں میں کمپنی کے اندر ’بیوروکریسی‘ کم کرنے اور غیر ضروری انتظامی ڈھانچے کو سادہ بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے کئی انتظامی اور دفتری کام خودکار ہونے کے بعد انسانی عملے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ چھانٹی اس بات کی علامت ہے کہ ایمیزون نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے اتنی پیداواری صلاحیت حاصل کر لی ہے کہ وہ اپنے کارپوریٹ ڈھانچے میں بڑی کمی کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شاپنگ کے شوقینوں کے لیے بڑی خبر، اب جلد اے آئی آپ کے لیے خریداری اور پیمنٹ کرے گی
دوسری جانب، ایمیزون رواں سال بھی 2.5 لاکھ موسمی ملازمین بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ تعطیلاتی سیزن میں بڑھتی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمیزون خریداری کٹوتی ملازمین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمیزون کٹوتی ملازمین کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔