کینیڈین وزیرِاعظم کو جی سیون اجلاس کیلئے مودی کو دعوت دینے پر تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو رواں ماہ البرٹا میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے لیے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو مدعو کرنے پر تنقید کا سامنا ہے، مارک کارنی نے کہا ہے کہ اُن کی دعوت بھارت کے لیے تھی، کسی خاص فرد کو نہیں بلایا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور 15 تا 17 جون کے اجلاس میں زیر بحث آنے والے معاملات کے لیے اس کی موجودگی ضروری ہے۔
اوٹاوا میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، مارک کارنی نے ایک سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ ’کیا وہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیرِاعظم کا سکھ کارکن ہر دیپ سنگھ نِجّرجی کے قتل میں کوئی کردار تھا؟، یہ بات ایک مقامی رپورٹ میں بتائی گئی تھی۔
کینیڈین لبرل رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ وزیرِاعظم کارنی کو مودی کو مدعو کرنے کے فیصلے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔
’نیشنل پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق سکھ کارکن ہر دیپ سنگھ نِجّرجی کو جون 2023 میں ایک گردوارے کے باہر قتل کر دیا گیا تھا، اور کینیڈا نے اس قتل کا تعلق بھارتی حکومت سے جوڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سرے، برٹش کولمبیا سے رکنِ پارلیمنٹ مسٹر سکھ دھالیوال نے کہا کہ انہیں اپنے حلقے سے درجنوں فون کالز اور 100 سے زائد ای میلز موصول ہوئی ہیں، جن میں مودی کی البرٹا میں سربراہی اجلاس میں شرکت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بھارتی نیوز پلیٹ فارم ’دی وائر‘ نے رپورٹ کیا کہ وزیرِاعظم کارنی کی جانب سے دعوت نامہ دینے کے بعد نئی دہلی نے نِجّرجی کے قتل سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مذاکرات بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو ’جوابدہی سے متعلق معاملات کو تسلیم کرتی ہے‘، اگرچہ اعلیٰ سطح کی مجرمانہ تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
کارنی کی مودی کو دعوت دینے کی خبر نے عالمی دلچسپی حاصل کی تھی، برطانوی اخبار دی گارڈین سمیت دیگر اداروں نے اوٹاوا میں ہونے والی نیوز کانفرنس کو رپورٹ کیا۔
مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا میں ایک قانونی عمل جاری ہے اور کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہے، اور ان قانونی معاملات کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے، اخبار نے بتایا کہ نِجّرجی کے قتل کے الزام میں کینیڈا میں مقیم 4 بھارتی شہریوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
مارک کارنی نے کہا کہ بھارت چونکہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت، سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور سپلائی چینز کا مرکز ہے، اس لیے توانائی، مصنوعی ذہانت اور اہم معدنیات پر گفتگو کے لیے اس کے رہنما کو مدعو کرنا ضروری تھا، چاہے تحقیقات جاری ہی کیوں نہ ہوں۔
تاہم، مودی کے حامیوں نے کارنی کے کچھ بیانات کو ناپسند کیا ہے، کیوں کہ وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، جس پر آزاد بھارتی ماہرینِ معیشت اور کارنی دونوں نے اختلاف کیا ہے۔
کارنی نے کہا کہ میں نے وزیرِاعظم مودی کو دعوت دی تھی، اور اس سیاق و سباق میں انہوں نے اسے قبول کیا ہے۔
نریندر مودی نے بھی کارنی کی کال موصول ہونے پر خوشی کا اظہار کیا، اور لبرل رہنما کو حالیہ انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔
مودی نے دعوت کی خبر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’متنوع جمہوریتوں کے طور پر، جو قریبی عوامی روابط سے جُڑی ہوئی ہیں، بھارت اور کینیڈا باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نئے جذبے کے ساتھ کام کریں گے‘۔
Glad to receive a call from Prime Minister @MarkJCarney of Canada.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 6, 2025
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارک کارنی نے کارنی نے کہا نے کہا کہ کہ بھارت مودی کو کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم