data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی کابینہ نے مالی سال 2026 کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ منظور کر لیا ہے۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق، نئے مالی سال کے لیے منظور کیا گیا بجٹ 25 ارب ڈالر (92 ارب درہم) سے زائد مالیت کا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ نے اس موقع پر فیڈرل فنانشل سینٹر پروگرام کی منظوری بھی دی ہے، جس کا مقصد اماراتی وفاقی اداروں کی مالی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 1.

05 کھرب درہم تک پہنچ گیا، جو عرب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح یو اے ای کی برآمدات بھی 2019 کے مقابلے میں دوگنا بڑھ کر 950 ارب درہم تک جا پہنچی ہیں، جو ملکی معیشت کی تیزی سے ترقی کا ثبوت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ نہ صرف مالی استحکام بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں مزید اضافے کا سبب بنے گا، جس سے یو اے ای کی عالمی معیشت میں پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یو اے ای

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف