data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-01-19

 

کراچی(کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے 27 اکتوبر 2025ء کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ اضافہ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ مجموعی معیشت پچھلے اندازوں کے مقابلے میں بہتر سمت میں جا رہی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر میں عمومی مہنگائی بڑھ کر 5.

6 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ قوزی (کور) مہنگائی 7.3 فیصد پر مستحکم رہی۔ کمیٹی نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کے اثرات توقع سے کم رہے اور زرعی پیداوار میں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔پالیسی بیان میں کہا گیا کہ ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران 4.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گاڑیوں، سیمنٹ، کھاد اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات نے مالی سال 2025 کی جی ڈی پی نمو کو بڑھا کر 3 فیصد کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر یورو بانڈ کی ادائیگی کے باوجود بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ ستمبر میں جاری کھاتے میں 110 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا جبکہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی خسارہ 594 ملین ڈالر تک محدود رہا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ زیادہ تر سیلاب سے متاثرہ غذائی اشیاء اور توانائی کی قیمتوں کے باعث ہوا۔ تاہم اگلے مالی سال تک مہنگائی کے دوبارہ ہدف کی حد (5 تا 7 فیصد) میں واپس آنے کی توقع ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے سے معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔ زری پالیسی کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتوں میں استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے زری اور مالیاتی پالیسیاں مربوط انداز میں جاری رکھی جائیں۔

کامرس رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک مالی سال

پڑھیں:

سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق

سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق