اپر کوہستان مالی اسکینڈل، ملزم سے 700 ملین کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اپر کوہستان مالی اسکینڈل میں ملزم کے قبضے سے 700 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ مل گیا۔
پشاور کی احتساب عدالت میں اپر کوہستان مالی اسکینڈل کی سماعت جج حامد مغل نے کی، گرفتار ملزم عبدالباسط کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش کئی انکشافات کیے ہیں، تاحال کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے، جسمانی ریمانڈ میں توسیع دی جائے۔
افسر نے بتایا کہ ملزم عبدالباسط سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ میں جونیئر کلرک تھا، جو مرکزی ملزم قیصر اقبال کا فرنٹ مین تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ عبدالباسط کے ذریعے قیصر اقبال نے مختلف اکاؤنٹس میں 700 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کی ہیں۔
افسر نے مزید کہا کہ ملزم کے قبضے سے ٹرانزیکشن اور دیگر متعلقہ ریکارڈ جبکہ گھر سے بھاری مالیت کا سونا، مہنگی گاڑیاں اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے۔
احتساب عدالت نے ملزم عبدالباسط کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افسر نے
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔