کاؤنٹر کیش ٹرانزیکشن: اکاؤنٹس کی بائیومیٹرک توثیق کی تاریخ گزرگئی، صارفین مشکل میں
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ضابطے نے ملک بھر میں ڈیجیٹل بینکنگ خدمات کو متاثر کردیا جس کے نتیجے میں جاز کیش، ایزی پیسہ اور دیگر موبائل والٹ استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین مشکلات کا شکار ہو گئے۔
مرکزی بینک نے تمام اکاؤنٹس اور والٹس کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی ہے جو آج سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
نئے ضابطے کے تحت تمام بینکوں، ڈیجیٹل بینکوں، مائیکرو فنانس اداروں اور موبائل والٹ فراہم کنندگان کو اپنے تمام صارفین کی بائیومیٹرک توثیق مکمل کرنی ہوگی۔
اسٹیٹ بینک نے پہلے 60 روز کی مہلت دی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے جس کا مطلب ہے کہ جن صارفین نے ابھی تک تصدیق نہیں کروائی ان کے اکاؤنٹس عارضی طور پر بند ہو سکتے ہیں۔
اس اقدام کے باعث وہ لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو روزمرہ مالیاتی لین دین، بلوں کی ادائیگی، رقم بھیجنے یا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم وصول کرنے کے لیے جاز کیش اور ایزی پیسہ پر انحصار کرتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ فیصلہ منی لانڈرنگ کی روک تھام (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی معاونت (سی ایف ٹی) کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
نئے ’کنسولیڈیٹڈ کسٹمر آن بورڈنگ فریم ورک‘ کے تحت اب کسی بھی قسم کا اکاؤنٹ فعال کرنے سے پہلے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی خواہ صارف کے پاس قومی شناختی کارڈ، نائیکوپ، پی او سی، اے آر سی یا پی او آر میں سے کوئی بھی دستاویز ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اگرچہ مالیاتی نظام کو مزید محفوظ بنائے گا، مگر قلیل مدت میں صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مہلت کا دورانیہ محدود تھا۔
ڈیجیٹل لین دین اور موبائل بینکنگ کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر، اس ضابطے سے ملک بھر کے صارفین متاثر ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک اور متعلقہ اداروں نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی بائیومیٹرک توثیق مکمل کریں تاکہ اکاؤنٹس تک رسائی یا لین دین کی سہولت کھونے سے بچ سکیں۔
یہ اقدام پاکستان میں زیادہ محفوظ اور شفاف مالیاتی نظام کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے تاہم عام صارفین کی سہولت اور رسائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن ٹرانزیکشن ایزی پیسہ بائیومیٹرک جاز کیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ن لائن ٹرانزیکشن ایزی پیسہ بائیومیٹرک جاز کیش اسٹیٹ بینک کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔