اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے، جس کے مطابق شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس فیصلے کا مقصد ملک کی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا اور افراط زر کی شرح پر قابو پانا ہے۔
پیر کو گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا، جس میں ملکی اور غیر ملکی معاشی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شرح سود کو موجودہ سطح پر رکھنے سے معیشت میں توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مالیاتی پالیسی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اجلاس کے دوران کہا کہ عالمی اقتصادی حالات اور ملک کی داخلی مالیاتی صورتحال کا بغور تجزیہ کیا گیا ہے، اور موجودہ شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ملکی معیشت کی مضبوطی اور استحکام کے لیے ضروری تھا۔
مذکورہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے مالیاتی پالیسی کے آئندہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور تمام ممکنہ اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
یہ فیصلہ پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد افراط زر کو کنٹرول کرنا اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مستحکم ماحول فراہم کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برقرار رکھنے اسٹیٹ بینک کیا گیا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔