ریکو ڈک منصوبہ، پاکستان کی جی ڈی پی میں سالانہ ایک فیصد اضافہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کی معیشت کیلئے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر ریکوڈک کاپر پراجیکٹ ہر سال ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً ایک فیصد حصہ ڈالے گا، جس سے یہ پروجیکٹ ملکی تاریخ کے اہم ترین صنعتی منصوبوں میں شامل ہو جائے گا۔ وزیراعظم کے اعلیٰ معاون ڈاکٹر توقیر شاہ نے کہا کہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے تازہ ترین بڑے مالیاتی پیکج (جس میں 300؍ ملین ڈالرز کا براہ راست قرضہ اور 400؍ ملین ڈالرز کا بلینڈڈ فنانس شامل ہے) کی مدد سے یہ منصوبہ پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں آئی ایف سی کی پہلی سرمایہ کاری ہے اور ملک کی معاشی صلاحیت پر عالمی اعتماد کی بحالی کا ثبوت ہے۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی نہ صرف مرکزی قرض دہندہ کا کردار ادا کرے گا بلکہ ماحولیاتی اور سماجی ہم آہنگی کی نگرانی بھی کرے گا تاکہ منصوبہ عالمی معیارات اور پائیدار اصولوں کے مطابق ثابت ہو۔ حال ہی میں آئی ایف سی اور ورلڈ بینک نے ریکوڈک منصوبے کیلئے 700؍ ملین ڈالرز کا رعایتی قرضہ منظور کیا تھا۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منظوری کے بعد نجی شعبے کی جانب سے ریکوڈک منصوبے میں ڈھائی ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس کامیابی میں ڈاکٹر شاہ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ریکوڈک پاکستان کی معیشت کا ایک ستون بننے جا رہا ہے جو 2024ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 2؍ ارب ڈالرز کا گراس ویلیو ایڈیڈ پیدا کرے گا، جو ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد ہوگا۔ منصوبے سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا کیونکہ 100؍ فیصد آمدنی غیر ملکی کرنسی میں ہوگی۔ ریکوڈک مائننگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کی قیادت میں یہ منصوبہ دنیا کی سب سے بڑی کاپر مائنز میں شامل ہوگا، جو ملک کیلئے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی فوائد کے دروازے کھولے گا۔ اس منصوبے میں کینیڈا کی بیرک گولڈ کارپوریشن 50؍ فیصد، تین پاکستانی سرکاری ادارے 25؍ فیصد جبکہ حکومت بلوچستان 25؍ فیصد حصے کے مشترکہ مالکان ہیں۔ ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ 40؍ سال کی متوقع کان کنی کی مدت کے دوران ہر سال دو سے ڈھائی لاکھ ٹن تانبہ پیدا ہوگا، وہ بھی اس وقت جب دنیا میں تانبے کی طلب بڑھ رہی ہے اور اس میں اضافے کی وجہ دنیا کا صاف توانائی کی جانب منتقلی پر زیادہ دھیان دینا اور بنیادی انفراسٹرکچر کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں 10؍ ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی، جن میں مختلف مہارتوں کے مقامی بلوچ کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔ آپریشنل مرحلے میں منصوبہ تقریباً 3؍ ہزار براہ راست ملازمتیں اور ہزاروں بالواسطہ اور سپلائی چین کی ملازمتیں فراہم کرے گا۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایف سی ڈالرز کا ملک کی کرے گا
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔