سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں دوبارہ لاگو، چین اور روس کی قرارداد ناکام
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں دوبارہ لاگو، چین اور روس کی قرارداد ناکام WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پابندیوں پر اہم اجلاس ہوا جہاں چین اور روس کی مشترکہ قرارداد منظور نہ ہوسکی۔
یہ قرارداد 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران کو دی گئی رعایتوں میں توسیع کے لیے پیش کی گئی تھی، تاہم اراکین کی اکثریت نے اسے مسترد کردیا۔
رپورٹس کے مطابق قرارداد کی ناکامی کے بعد ایران پر عائد تمام معطل شدہ پابندیاں دوبارہ نافذالعمل ہوگئی ہیں۔ سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں 9 اراکین نے مخالفت، 4 نے حمایت جبکہ 2 اجلاس میں شریک ہی نہ ہوئے۔
روس کے نائب مستقل مندوب دیمتری پولیانسکی نے اجلاس کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو ایران پر پابندیوں کی بحالی کو مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق تہران کے خلاف یہ اقدامات غیر قانونی اور ناقابلِ عمل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یورپی ممالک دراصل نیوکلیئر ڈیل کو مکمل طور پر سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو غیر قانونی قرار دے۔ انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ اس نے سفارتکاری سے غداری کی، جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر معاہدے کو دفن کرنے کا الزام عائد کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی: ڈی جی رینجرز سندھ کا جامعۃ الرشید احسن آباد کا دورہ جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان نے ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کردی وزیر اعظم کی ہدایت پر ایف بی آرکا ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلئے اہم اقدام پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کو کتنے ارب کا پیکج دے گی؟پلان تیار یمن کی بندگارہ کے قریب بحری جہاز پر ڈون حملہ، 27 پاکستانیوں کی موجودگی کی اطلاع غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامیہ کی قیادت کیلئے ٹونی بلیئر کا نام گردش کرنے لگا ایشیا ء کپ میں شاندار کم بیک: عرفان پٹھان بھی پاکستانی ٹیم کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل ایران پر
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :