امریکی کافی چین اسٹاربکس کا 900 ملازمین برطرف کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا کی سب سے بڑی کافی چین اسٹاربکس نے اپنے 900 ملازمین کو برطرف اور 100 کیفے بند کرنے کا اعلان کردیا ۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسٹاربکس دنیا کی سب سے بڑی کافی چین ہے، جو فروخت میں کمی کے باعث شمالی امریکا میں 900 ملازمین کو برطرف اور 100 کیفے بند کر رہی ہے ۔ اس کا مقصد اپنی گرتی کاروباری قدر کو بہتر بنانا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں اسٹاربس کی فروخت مسلسل کم ہو رہی ہے جس کے باعث کمپنی نے کافی کی اس سب سے بڑی عالمی چین کو دنیا میں دوبارہ سے بلند مقام دلانے کے لیے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ کمپنی جس نے رواں برس کے اوائل میں 1100 کارپوریٹ عہدے بھی ختم کیے تھے، اب دیگر عہدے ختم کرنے سے متعلق بھی اعلان کیا ہے۔ اس سے متاثرہ ملازمین کو جلد فیصلے سے مطلع کردیا جائے گا۔اسٹاربکس کے ایک ارب ڈالر کے تنظیم نو کے منصوبے کے تحت فارغ کیے جانے والے 900 ملازمین نان ریٹیل شعبے میں کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب اسٹاربکس ورکرز یونائیٹڈ، جو کمپنی کی سیکڑوں شاخوں کے ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونین اسٹاربکس کے ملازمین کو برطرف کرنے کے فیصلے کی مخالفت اور ہڑتالوں کی دھمکی دی ہے۔ جب کہ کمپنی سی ای او نے یونین کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملازمین کو
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔