افغانستان میں غیر قانونی اسلحہ پھیلاؤ سے پورا خطہ غیر محفوظ ہے، پاکستان کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے جدید اسلحے کے ذخائر اور دہشت گرد گروپوں کی اسلحے تک آزادانہ رسائی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورت کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ غیر قانونی سرگرمیاں دہشت گرد تنظیموں کو مزید طاقتور بنائیں گی اور جنوبی ایشیا میں بدامنی کی نئی لہر کو جنم دیں گی۔
سفیر پاکستان عاصم افتخار احمد نے اپنی تقریر میں اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ افغانستان میں ایسے گروہ سرگرم ہیں جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور انہیں بیرونی مالی و عملی مدد حاصل ہے۔ یہ اسلحہ نہ صرف افغانستان کے اندر بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے اندر غیر قانونی اسلحے کی موجودگی عالمی امن کے لیے ایک کھلا چیلنج بن چکی ہے، جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو جدید اسلحے کی ترسیل روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان میں ایسے عناصر سرگرم ہیں جو سرحد پار حملوں، اسمگلنگ اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مضبوط کر رہے ہیں اور اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورتحال مزید خطرناک ہوسکتی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے افغانستان کے عبوری حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، سرزمین کو دہشت گردوں کے استعمال سے محفوظ بنائیں اور عالمی برادری کو یقین دلائیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر سلامتی کی بگڑتی صورتحال پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے اسلحے کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دنیا کو اب محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ دہشت گرد گروہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو چکے ہیں اور اگر انہیں مزید موقع ملا تو علاقائی امن و ترقی کو شدید نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے آخر میں عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغانستان میں غیر قانونی اسلحے کے بڑھتے ذخائر، علاقائی استحکام کے لیے ایک خاموش بم کی مانند ہیں، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں ورنہ دہشت گردی کا یہ سیلاب سرحدوں کو روندتا ہوا سب کچھ بہا لے جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل افغانستان میں کہ افغانستان عالمی برادری افغانستان کے انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔