بلوچستان میں دشمن کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد :وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کے اگر مگر یا ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، دہشت گرد کو بلا تردد دہشت گرد کہا جانا چاہیے، بلوچستان میں نہ کوئی ناراضگی کا مسئلہ ہے اور نہ ہی حقوق کی جنگ لڑی جا رہی ہے بلکہ جو عناصر سرگرم ہیں وہ خالصتاً مجرمانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مجرمانہ سرگرمیاں چند گروہ مل کر کہیں بھی کر سکتے ہیں، چاہے وہ محفوظ علاقے ہوں یا حساس خطے، دنیا بھر میں یہ مثالیں موجود ہیں کہ گروہ مل کر لوگوں کو یرغمال بناتے ہیں، بلوچستان میں یہ لوگ اس سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں، جہاں بسوں کو روک کر مسافروں کو اتارا جاتا ہے اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی فیملیز کے سامنے شہید کر دیا جاتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ عناصر واردات کے بعد چھپ جاتے ہیں اور خود کو کسی نام نہاد مقصد یا تحریک کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کے اقدامات کی کوئی سیاسی یا نظریاتی بنیاد نہیں، اس ٹرین میں بھی بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد صرف خوف، افراتفری اور عدم استحکام پھیلانا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کس قسم کی ناراضی ہے کہ آپ بے گناہ شہریوں کو شہید کریں؟ جعفر ایکسپریس واقعے میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی میتیں جب کوئٹہ کے اسپتال لائی گئیں تو کس نے جا کر انہیں قبضے میں لیا؟ ان سوالات کے جواب قوم کے سامنے آنے چاہئیں تاکہ حقائق واضح ہوں اور کسی کو گمراہ ہونے کا موقع نہ ملے۔
وزیراعظم کے مشیر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بلوچستان میں نہ کوئی حقوق کا مسئلہ ہے اور نہ ہی کوئی جائز احتجاج، بلکہ یہ عناصر دشمن کی ایماء پر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف بغیر کسی ابہام اور تاخیر کے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ جیسے معرکۂ حق میں دشمن کو ذلت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح ان دہشت گردوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کیا جائے گا، ریاست پاکستان اپنی رٹ قائم رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور اس حوالے سے کوئی نرمی یا مصلحت نہیں برتی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل رانا ثنا اللہ نے بلوچستان میں کہا کہ
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر