بلوچستان: فورسز کی کارروائیاں‘مزید 22 دہشت گرد ہلاک، 3 روز میں 177 دہشت گرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-26
کوئٹہ/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کا تعاقب کرتے ہوئے مزید 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا، 3 دن میں 177 دہشت گرد مارے گئے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، گزشتہ رات پیچھا کرتے ہوئے مزید 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا‘ گزشتہ 3 روز کے دوران کیے جانے والے آپریشنز میں کم سے کم کل ملا کر 177 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز اورپولیس مختلف جگہوں پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف مزید گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مزید نقصانات اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے‘ بلوچستان میں خواتین اور بچوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی بلوچوں کی بڑی تعداد موجود ہے، بلوچستان میں میڈیکل کالجز سمیت بڑی تعداد میں تعلیمی و تربیتی ادارے موجود ہیں‘ کوئی شک نہیں وفاق سمیت ہر صوبے میں کرپشن ہے، کرپشن ایک ایسا دیمک ہے جو ہمارے قومی اسٹرکچر کو کھا رہا ہے، بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی روزانہ اسمگلنگ ہو رہی ہے، تیل کی اسمگلنگ سے دہشت گرد روزانہ 4 ارب کما رہے ہیں اور ایران سے 40 روپے لیٹر تیل لے کر کراچی میں200 روپے لیٹر بیچ رہے ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جرائم پیشہ افراد محرومیوں کا بیانیہ بناتے ہیں، جو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اِن کا مسنگ پرسن میں نام ہے، مسنگ پرسن مسقط، عمان، دبئی میں بیٹھے اور اُن کی فیملیز یہاں ریاست سے الاؤنس لے رہی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا، بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، دہشت گردوں کے پاس20،20 لاکھ روپے کی رائفل ہے، دہشت گرد امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں، دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، دہشت گرد معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، سیاست دان اپنے اختلافات بھلا کر سیکورٹی فورسز کے پیچھے کھڑے ہوں۔ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صوبے میں کوئی نا راض نہیں‘ کسی اگر مگرکے بغیر دہشت گردوں کو دہشت گردکہا جائے‘ دہشت گردی پر ہمارا مؤقف واضح ہے، سب کو ایک ہونا ہو گا۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے‘ پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا۔ بلوچستان کی تازہ صورت حال پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان ہمارے پورے ملک کے لیے ایک بلائنڈ اسپاٹ بن چکا ہے جس کی تاریخ کافی پرانی ہے‘ آپ اس ایوان کو مضبوط کریں تو کوئی پاگل نہیں جو جنگ کرنے اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہو۔ محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ صرف پاکستان زندہ باد کے نعروں سے پاکستان نہیں بنے گا۔ پشتون بلوچستان کا 50 فیصد ہیں، ان باتوں پر ہمارے جھگڑے ہوچکے ہیں خان آف قلات کو ان باتوں کا اندازہ تھا۔ سینیٹ میں بلوچستان کے معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجرمانہ کارروائیاں کوئی بھی گروہ کہیں بھی کر سکتے ہیں، محفوظ ترین علاقوں میں بھی کوئی گروہ مسلح ہو کر لوٹ مار کر سکتا ہے‘ بلوچستان میں لوگ مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جو شناختی کارڈ چیک کر کے فیملی کے سامنے شہید کرتے ہیں، جعفر ایکسپریس کو روک کر لوگوں کو یرغمال بناتے ہیں، یہ کس قسم کی ناراضگی ہے کہ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں‘ یہ لوگ دشمن کے آلہ کار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو بلوچستان میں کرتے ہوئے رہے ہیں
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔