قائمہ کمیٹی اجلاس، سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل و آربیٹریشن بل 2026 پیش
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسکرین گریب بشکریہ نیشنل اسمبلی / فیس بیک
چوہدری محمود ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس جس میں سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل کمیٹی میں پیش کیا گیا۔ یہ بل ممبر قومی اسمبلی صوفیہ سعید نے پیش کیا۔
صوفیہ سعید نے کہا کہ خواتین کو وراثت کے معاملے میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 18 سے 20 سال ہوگئے میرے اپنے وراثت کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
اس موقع پر ممبی کمیٹی حسن صابر نے کہا کہ اس وقت بہن بھائیوں کے درمیان عدالتی کیسز کا بڑا مسئلہ ہے۔
علی قادر گیلانی بولے کہ پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ پر عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا تھا، اس قانون کے خلاف بھی بعد میں ایسے کوئی حکم امتناع جاری نہ ہوجائے۔
چیئرمین کمیٹی چوہدری محمد ورک نے کہا کہ اس بل پر ووٹنگ کروالیں یا کوئی اور آپشن ہے، جس پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ اس کو مؤخر کرکے مزید ترمیم کرلی جائے، ایک بار مؤخر کردیں پھر ہم بیٹھ کر اس میں دوبارہ ترمیم کردیتے ہیں۔
کمیٹی نے سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل ممبران کی تجاویز پر مؤخر کردیا۔
اجلاس کے دوران تنازعات کے متبادل حل کےلیے آربیٹریشن بل 2026 قائمہ کمیٹی قانون و انصاف میں پیش کیا گیا۔ اس دوران کمیٹی ارکان عالیہ کامران اور نوید قمر نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا۔
نوید قمر کا کہنا تھا کہ قانون سازی کرنا ہائیکورٹ یا حکومت کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا کام ہے، پہلے تھا کہ کوئی فریق ثالثی میں نہیں جا رہا تو اس کی مرضی ہے، اب آپ کہہ رہے ہیں ثالثی میں جانا لازمی ہوگا۔
رکن کمیٹی سائرہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلے فیصلوں کے بعد بھی لوگوں میں دشمنیاں چلتی رہتی تھیں، اب اگر عدالت اس میں مداخلت کرے گی تو دشمنیاں کم ہوں گی۔ نوید قمر کے تحفظات دور کریں، میں ثالثی کے حق میں ہوں۔
اس موقع پر عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ ہم نے مستقل یہاں نہیں رہنا، وہ قانون بنائے جائیں جن کا سر پیر موجود ہو۔ مجھے اس قانون میں کوئی سر پاؤں نظر نہیں آیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سے ہمارا اختیار لے کر حکومت اور ہائیکورٹ کو دیا جا رہا ہے، اگر ہم اچھائی کی طرف جارہے ہیں تو بتادیں کہ کتنے معاملات حل ہوچکے ہیں؟
اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ برٹش پارلیمنٹ بھی پارلیمانی عمل کے آغاز سے ایسی ایکسرسائز کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں اسی کمیٹی روم میں یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ وقت میں کوئی مکمل سسٹم نہیں ہے۔ وزارت قانون نے بتایا تھا 5 سے 7 سال میں ایک مکمل سسٹم تیار کیا جائے گا۔
ایڈیشنل سیکریٹری قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ اس بل سے پارلیمنٹ سے براہِ راست اختیار نہیں لیا جا رہا، پارلیمنٹ سے گزارش کی گئی ثالثی کے قانونی اصولوں کے مطابق ضروری ترامیم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ قانون و انصاف نے کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔