اسنیپ چیٹ نے آسٹریلیا میں کم عمر صارفین کے 4 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
آسٹریلیا میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بعد اسنیپ چیٹ نے 16 سال سے کم عمر صارفین کے 4 لاکھ 15 ہزار اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔
اسنیپ چیٹ نے پیر کو جاری بیان میں بتایا کہ دسمبر میں نافذ ہونے والے نئے قانون کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے، تاہم کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ کچھ کم عمر بچے عمر کی تصدیق کے نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
نئے قانون کے مطابق اسنیپ چیٹ، میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 16 سال سے کم عمر افراد کے اکاؤنٹس روکنا لازم ہے۔ قانون پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کمپنیوں کو 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیاں اب تک مجموعی طور پر 47 لاکھ کم عمر اکاؤنٹس بند کر چکی ہیں، جسے حکام نے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اسنیپ چیٹ کا کہنا ہے کہ عمر جانچنے کی موجودہ ٹیکنالوجی میں دو سے تین سال تک کی غلطی ہو سکتی ہے، جس کے باعث بعض کم عمر بچے پابندی سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ کچھ 16 سال سے زائد عمر کے صارفین غلطی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
کمپنی نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپ اسٹورز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کا پابند بنایا جائے تاکہ قانون پر مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
اسنیپ چیٹ کا مؤقف ہے کہ مکمل پابندی درست حل نہیں اور چونکہ یہ پلیٹ فارم بنیادی طور پر پیغام رسانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے نوعمروں کو قریبی دوستوں اور خاندان سے کاٹ دینا انہیں زیادہ محفوظ نہیں بناتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسنیپ چیٹ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔