گھریلو تشدد کا قانون، کیا بیوی کو گھورنا جرم ہے ؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پاکستان کے پارلیمان نے خواتین، مردوں، بچوں، خواجہ سرا اور کمزور افراد کو گھریلو تشدد سے تحفظ دینے، داد رسی اور قانونی سہولت دینے کے قانون (ڈومیسٹک وائلنس پریونشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2026) کی منظوری دے دی ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق بل کی منظوری کے وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے سے متعلق کنونشن (کنونشن آن دی ایلیمینیشن آف آل فارمز آف ڈس کریمینشن اگینسٹ ویمن) کا دستخط کنندہ ہے، یہ کنونشن یقینی بناتا ہے کہ تمام ممالک گھریلو تشدد کے خاتمے کیلئے ایک جامع فریم ورک اپنائیں، تاکہ متاثرہ افراد کے تحفظ اور امداد کو یقینی بنایا جاسکے، اس قانون کا اطلاق اسلام آباد کی حدود تک ہوگا۔
قانون کے مطابق گھریلو تشدد کی تعریف کیا ہے ؟قانون کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جن میں جسمانی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بد سلوکی شامل ہو، یہ تشدد اس وقت تصور کیا جائے گا، جب خواتین، مردوں، خواجہ سرا، کمزور افراد یا کسی بھی فرد کا متعلقہ شخص سے گھریلو تعلق ہو یا رہا ہو یا کوئی بھی ایسا شخص جس کو گھریلو تعلق کے دوران متعلقہ شخص سے خوف لاحق ہو یا جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچے۔
کیا بیوی کو گھورنا تشدد ہے ؟کسی خاتون کے کردار پر غلط الزام لگانا، خاتون کو بانجھ پن یا پاگل پن کے بے بنیاد الزام پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، کسی خاتون کو اس کے شوہر کے علاؤہ کسی کے ساتھ ایک جگہ پر رہنے پر مجبور کرنا، شریک حیات کو جسمانی تکلیف دینے کی دھمکی دینا جان بوجھ کر یا لاپروائی کرکے ترک تعلق کردینا یا چھوڑ دینا تشدد کے زمرے میں آئے گا، لیکن قانون کے مطابق ’بیوی کو گھورنا‘ تشدد نہیں ہے۔
کسی کی بے عزتی کرنا، تضحیک یا مذاق اڑانا، بار بار کسی کا پیچھا کرنا یا تعاقب کرنا، کسی کی نجی زندگی، رازداری، خودمختاری، وقار اور سیکیورٹی میں مداخلت بھی تشدد شمار کیا جائے گا۔
گھریلو تشدد کی سزا کیا ہوگی ؟گھریلو تشدد ثابت ہونے پر متعلقہ شخص جو زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سزا دی جا سکے گی، تاہم یہ سزا تشدد کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے 6 ماہ سے کم نہیں ہوگی، گھریلو تشدد کرنے والے فرد ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی دینا ہوگا، جس میں سے 20 ہزار روپے متاثرہ فرد کو معاوضے کی مد میں دیا جائے گا.
جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں عدالت تین ماہ قید دینے کی مجاز ہوگی مجرم کی سہولت کاری اور مدد کرنے والے شخص کو مجرم جتنی سزا دے جاسکے گی.
کیس کا فیصلہ کرنے وقت میں ہوگا ؟عدالت سات دن کے اندر کیس کی سماعت مقرر کرے گی اور جس فرد کے خلاف شکایت ہو اس کو سات دن کے اندر طلب کیا جائے گا اور اظہار وجوہ کا موقع دیا جائے گا عدالت نوے دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی.
گھریلو تشدد سے متاثرہ فرد کو رہائش کا اختیارمتاثرہ شخص کو مشترکہ گھر یا جگہ پر رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہوگا چاہے اس کو وہاں رہنے کا حق ہو نہ ہو متاثرہ شخص کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ گھر میں رہنا چاہیے یا شیلٹر ہوم میں، یہ فیصلہ وہ خود کرے گا .
متاثرہ شخص کے حق میں عدالتی ہدایات کیا ہوسکتی ہیں ؟عدالت ٹرائل کے دوران کسی بھی موقع پر متاثرہ فرد یا اس کے بچے کے حق میں (جو گھریلو تشدد کا شکار ہوا ہو) مالی ریلیف سے متعلق عبوری حکم جاری کر سکتی ہے یہ عبوری حکم نامہ آمدنی کے نقصان، طبی اخراجات، متاثرہ کے جائیداد کے نقصان اور متاثرہ شخص کے بچوں کی کفالت سے متعلق ہوسکتا ہے۔
مخالف فریق متاثرہ فریق کو عدالتی فیصلے کے مطابق مقررہ وقت میں مالی ادائیگی کرے گا ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں عدالت مخالف فریق کے اجر کو اس کی تنخواہ میں سے ادائیگی کا حکم دے گا۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سزا ؟عدالت کے عبوری حکم نامے یا حفاظتی حکم نامے کی خلاف ورزی ایک قابل سزا جرم ہوگا جس کی سزا ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا جرمانے کی رقم متاثرہ فرد کو دے جائے گی۔
پروٹیکشن کمیٹی میں کون کون شامل ہوگا ؟اس قانون پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ ڈویژن 3 ماہ میں پروٹیکشن کمیٹی قائم کرے گی، اس کمیٹی میں فیملی پروٹیکشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن سنٹر کا نمائندہ، نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کا نمائندہ، ایک میڈیکل ڈاکٹر یا سائیکالوجسٹ یا سوشل ورکر، ایک لاء آفیسر، انسانی حقوق کا نامزد کردہ افسر اور ایک پروٹیکشن افسر بھی ہوگا، جو پروٹیکشن کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر کام کرے گا۔ تاہم اس قانون کی شق 19 کے مطابق دو پروٹیکشن افسران کی تقرری کی جائے گی جن میں سے ایک مرد اور ایک عورت ہوگی۔
پروٹیکشن کمیٹی کے فرائض اور اختیارات کیا ہوں گے ؟پروٹیکشن کمیٹی متاثرہ شخص کو اس کے حقوق سے متعلق آگاہی دے گی، موجودہ قوانین کے تحت کیسے اس کی مدد کی جاسکتی ہے اس سے بھی متاثرہ شخص کا آگاہ کیا جائے گا۔ کمیٹی گھریلو تشدد کے نتیجے میں ضروری میڈیکل ٹریٹمنٹ دلوانے میں مدد کرے گی اور اگر ضرورت ہو تو پروٹیکشن کمیٹی متاثرہ شخص کو ایسی محفوظ جگہ پر منتقل کرے گی، جو اس کو قابل قبول ہو۔
پروٹیکشن آفیسر کیس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد پٹیشن کی تیاری میں متاثرہ شخص کی مدد کرے گا، جبکہ پروٹیکشن کمیٹی گھریلو تشدد کے واقعات کا ریکارڈ رکھنے کی زمہ دار ہوگی اور ان تمام سروس پرووائیڈرز کی تفصیلات رکھنے کی بھی زمہ دار ہوگی جہاں جہاں سے متاثرہ شخص مدد یا تعاون کے سکتا ہو۔
پروٹیکشن کمیٹی کو استثنیٰ حاصل ہے ؟قانون کو پروٹیکشن کمیٹی کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور پروٹیکشن کمیٹی کا ہر وہ کام جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو، اس کے نتیجے میں پروٹیکشن کمیٹی اور اس کے افسران کے خلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکے گی.
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ثاقب سعید گزشتہ دس برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف ٹی وی چینلز سے منسک رہے جبکہ ایک قومی چینل کے لیے پارلیمنٹ، قانون سازی، گورننس، الیکشن پراسس اور سیاسی جماعتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروٹیکشن کمیٹی گھریلو تشدد کیا جائے گا متاثرہ فرد متاثرہ شخص کے مطابق تشدد کے کرے گا شخص کو کرے گی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔