WE News:
2026-07-24@03:54:08 GMT

گھریلو تشدد کا قانون، کیا بیوی کو گھورنا جرم ہے ؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

گھریلو تشدد کا قانون، کیا بیوی کو گھورنا جرم ہے ؟

پاکستان کے پارلیمان نے خواتین، مردوں، بچوں، خواجہ سرا اور کمزور افراد کو گھریلو تشدد سے تحفظ دینے، داد رسی اور قانونی سہولت دینے کے قانون (ڈومیسٹک وائلنس پریونشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2026) کی منظوری دے دی ہے۔

بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق بل کی منظوری کے وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے سے متعلق کنونشن (کنونشن آن دی ایلیمینیشن آف آل فارمز آف ڈس کریمینشن اگینسٹ ویمن) کا دستخط کنندہ ہے، یہ کنونشن یقینی بناتا ہے کہ تمام ممالک گھریلو تشدد کے خاتمے کیلئے ایک جامع فریم ورک اپنائیں، تاکہ متاثرہ افراد کے تحفظ اور امداد کو یقینی بنایا جاسکے، اس قانون کا اطلاق اسلام آباد کی حدود تک ہوگا۔

قانون کے مطابق گھریلو تشدد کی تعریف کیا ہے ؟

قانون کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جن میں جسمانی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بد سلوکی شامل ہو، یہ تشدد اس وقت تصور کیا جائے گا، جب خواتین، مردوں، خواجہ سرا، کمزور افراد یا کسی بھی فرد کا متعلقہ شخص سے گھریلو تعلق ہو یا رہا ہو یا کوئی بھی ایسا شخص جس کو گھریلو تعلق کے دوران متعلقہ شخص سے خوف لاحق ہو یا جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچے۔

کیا بیوی کو گھورنا تشدد ہے ؟

کسی خاتون کے کردار پر غلط الزام لگانا، خاتون کو بانجھ پن یا پاگل پن کے بے بنیاد الزام پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، کسی خاتون کو اس کے شوہر کے علاؤہ کسی کے ساتھ ایک جگہ پر رہنے پر مجبور کرنا، شریک حیات کو جسمانی تکلیف دینے کی دھمکی دینا جان بوجھ کر یا لاپروائی کرکے ترک تعلق کردینا یا چھوڑ دینا تشدد کے زمرے میں آئے گا، لیکن قانون کے مطابق ’بیوی کو گھورنا‘ تشدد نہیں ہے۔

کسی کی بے عزتی کرنا، تضحیک یا مذاق اڑانا، بار بار کسی کا پیچھا کرنا یا تعاقب کرنا، کسی کی نجی زندگی، رازداری، خودمختاری، وقار اور سیکیورٹی میں مداخلت بھی تشدد شمار کیا جائے گا۔

گھریلو تشدد کی سزا کیا ہوگی ؟

گھریلو تشدد ثابت ہونے پر متعلقہ شخص جو زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سزا دی جا سکے گی، تاہم یہ سزا تشدد کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے 6 ماہ سے کم نہیں ہوگی، گھریلو تشدد کرنے والے فرد ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی دینا ہوگا، جس میں سے 20 ہزار روپے متاثرہ فرد کو معاوضے کی مد میں دیا جائے گا.

جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں عدالت تین ماہ قید دینے کی مجاز ہوگی مجرم کی سہولت کاری اور مدد کرنے والے شخص کو مجرم جتنی سزا دے جاسکے گی.

کیس کا فیصلہ کرنے وقت میں ہوگا ؟

عدالت سات دن کے اندر کیس کی سماعت مقرر کرے گی اور جس فرد کے خلاف شکایت ہو اس کو سات دن کے اندر طلب کیا جائے گا اور اظہار وجوہ کا موقع دیا جائے گا عدالت نوے دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی.

گھریلو تشدد سے متاثرہ فرد کو رہائش کا اختیار

متاثرہ شخص کو مشترکہ گھر یا جگہ پر رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہوگا چاہے اس کو وہاں رہنے کا حق ہو نہ ہو متاثرہ شخص کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ گھر میں رہنا چاہیے یا شیلٹر ہوم میں، یہ فیصلہ وہ خود کرے گا .

متاثرہ شخص کے حق میں عدالتی ہدایات کیا ہوسکتی ہیں ؟

عدالت ٹرائل کے دوران کسی بھی موقع پر متاثرہ فرد یا اس کے بچے کے حق میں (جو گھریلو تشدد کا شکار ہوا ہو) مالی ریلیف سے متعلق عبوری حکم جاری کر سکتی ہے یہ عبوری حکم نامہ آمدنی کے نقصان، طبی اخراجات، متاثرہ کے جائیداد کے نقصان اور متاثرہ شخص کے بچوں کی کفالت سے متعلق ہوسکتا ہے۔

مخالف فریق متاثرہ فریق کو عدالتی فیصلے کے مطابق مقررہ وقت میں مالی ادائیگی کرے گا ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں عدالت مخالف فریق کے اجر کو اس کی تنخواہ میں سے ادائیگی کا حکم دے گا۔

عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سزا ؟

عدالت کے عبوری حکم نامے یا حفاظتی حکم نامے کی خلاف ورزی ایک قابل سزا جرم ہوگا جس کی سزا ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا جرمانے کی رقم متاثرہ فرد کو دے جائے گی۔

پروٹیکشن کمیٹی میں کون کون شامل ہوگا ؟

اس قانون پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ ڈویژن 3 ماہ میں پروٹیکشن کمیٹی قائم کرے گی، اس کمیٹی میں فیملی پروٹیکشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن سنٹر کا نمائندہ، نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کا نمائندہ، ایک میڈیکل ڈاکٹر یا سائیکالوجسٹ یا سوشل ورکر، ایک لاء آفیسر، انسانی حقوق کا نامزد کردہ افسر اور ایک پروٹیکشن افسر بھی ہوگا، جو پروٹیکشن کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر کام کرے گا۔ تاہم اس قانون کی شق 19 کے مطابق دو پروٹیکشن افسران کی تقرری کی جائے گی جن میں سے ایک مرد اور ایک عورت ہوگی۔

پروٹیکشن کمیٹی کے فرائض اور اختیارات کیا ہوں گے ؟

پروٹیکشن کمیٹی متاثرہ شخص کو اس کے حقوق سے متعلق آگاہی دے گی، موجودہ قوانین کے تحت کیسے اس کی مدد کی جاسکتی ہے اس سے بھی متاثرہ شخص کا آگاہ کیا جائے گا۔ کمیٹی گھریلو تشدد کے نتیجے میں ضروری میڈیکل ٹریٹمنٹ دلوانے میں مدد کرے گی اور اگر ضرورت ہو تو پروٹیکشن کمیٹی متاثرہ شخص کو ایسی محفوظ جگہ پر منتقل کرے گی، جو اس کو قابل قبول ہو۔

پروٹیکشن آفیسر کیس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد پٹیشن کی تیاری میں متاثرہ شخص کی مدد کرے گا، جبکہ پروٹیکشن کمیٹی گھریلو تشدد کے واقعات کا ریکارڈ رکھنے کی زمہ دار ہوگی اور ان تمام سروس پرووائیڈرز کی تفصیلات رکھنے کی بھی زمہ دار ہوگی جہاں جہاں  سے متاثرہ شخص مدد یا تعاون کے سکتا ہو۔

پروٹیکشن کمیٹی کو استثنیٰ حاصل ہے ؟

قانون کو پروٹیکشن کمیٹی کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور پروٹیکشن کمیٹی کا ہر وہ کام جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو، اس کے نتیجے میں پروٹیکشن کمیٹی اور اس کے افسران کے خلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکے گی.

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ثاقب سعید

ثاقب سعید گزشتہ دس برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف ٹی وی چینلز سے منسک رہے جبکہ ایک قومی چینل کے لیے پارلیمنٹ، قانون سازی، گورننس، الیکشن پراسس اور سیاسی جماعتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پروٹیکشن کمیٹی گھریلو تشدد کیا جائے گا متاثرہ فرد متاثرہ شخص کے مطابق تشدد کے کرے گا شخص کو کرے گی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن