افغانستان میں فوجداری ضابطے میں تشدد اور خوف کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا: امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں فوجداری ضابطے میں تشدد اور خوف کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے قانون کے بعد افغان خواتین اور پناہ گزین شدید خطرات میں ہیں، طالبان فوجداری ایکٹ میں جبر اور سزا کو قانونی تحفظ دے دیا گیا۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا ضابطہ افغانستان کو شدت پسندوں کے لیے محفوظ بنا رہا ہے، افغانستان کا نیا قانون انسانی حقوق کے خلاف کھلا اعلان ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغان طالبان کو عالمی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
یوریشیا ریویو اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔