باجوڑ میں سرحد پار دراندازی کی بڑی کوشش ناکام، 14 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار سے ہونے والی ایک بڑی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔
کارروائی کے دوران 14 خوارجی دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جو پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ الخوارج نے افغانستان کو اپنی بنیادی آپریشنل پناہ گاہ بنا رکھا ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، بھرتی، رابطہ کاری اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین نے پاکستانی مؤقف کی حمایت کردی، افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کا مکروہ چہرہ بےنقاب
پاکستان کو درپیش خطرہ اب محض بکھرے ہوئے عناصر تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کو افرادی قوت، لاجسٹک سپورٹ اور محفوظ نقل وحرکت کے لیے افغان سرزمین پر انحصار حاصل ہے، جسے وہاں موجود سازگار ماحول مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
افغان عبوری انتظامیہ کی جانب سے ان نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا دہشتگرد عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اگر افغانستان نے حملہ کیا تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تیار ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اقوام متحدہ بھی اس امر کی تصدیق کر چکی ہے کہ افغانستان میں ایک درجن سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، جو اسے علاقائی دہشت گردی کا مرکز ثابت کرتی ہیں۔
ان تنظیموں کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق خوارج دہشت گرد افغانستان میں اپنے خاندانوں کے ساتھ کھلے عام مقیم ہیں، کمزور نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے تشدد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 2 افغان شہریوں سمیت 3 دہشتگرد ہلاک کردیے
ان کی سرحد پار کارروائیاں پاکستانی ریاست کے خلاف واضح دشمنی کو بے نقاب کرتی ہیں۔
افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی فوجی اسلحہ اور جدید جنگی سازوسامان بھی دہشت گرد عناصر کے ہاتھ لگ رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
اس اسلحے کی دستیابی نے خطرات کی شدت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کا افغانستان میں جامع حکومت پر زور، دہشتگردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
باجوڑ میں 14 دہشتگردوں کی ہلاکت زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح پیغام ہے، ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں تاکہ دہشتگردی کے لیے کسی قسم کی جگہ باقی نہ رہنے دی جائے۔
پاکستان اپنی سرحدوں، عوام اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے خوارج کے ناسور کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز باجوڑ جنگی سازوسامان خوارج خیبر پختونخوا دراندازی دہشتگردی زیرو ٹالرنس پالیسی سیکیورٹی اہلکار سیکیورٹی فورسز عدم استحکام کمانڈ اینڈ کنٹرول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز باجوڑ جنگی سازوسامان خوارج خیبر پختونخوا دہشتگردی زیرو ٹالرنس پالیسی سیکیورٹی اہلکار سیکیورٹی فورسز عدم استحکام کمانڈ اینڈ کنٹرول افغانستان میں سرحد پار کے خلاف رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔