وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کے درمیان ملاقات، سیکیورٹی کی صورتحال سمیت اہم امور زیر غور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات جاری ہے جس میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال سمیت اہم امور پر بات چیت ہو رہی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے متعلق تحفظات پر وزیراعظم کو آگاہ کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ نے حبسِ بے جا میں رکھے 25 بھٹہ مزدور رہا کردیئے
ملاقات میں وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی سے متعلق بات چیت ہوگی جبکہ 8 فروری کے ممکنہ احتجاج پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔
ملاقات میں وادی تیراہ میں آپریشن اور مقامی لوگوں کی نکل مکانی پر بات چیت ہوگی۔
وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود ہیں۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا بات چیت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔