وزیر داخلہ سندھ کی شبِ برات کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت دی ہے کہ شبِ برات کے موقع پر صوبہ بھر میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔
تفصیلات کے مطابق تمام اضلاع کے ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو مساجد،امام بارگاہوں، مزارات اور درگاہوں پر خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ مذہبی اجتماعات، محافلِ شبِ برات اور کھلے مقامات پر اضافی نفری اور موبائل گشت بڑھایا جائے۔ ممکنہ حساس مساجد اور امام بارگاہوں پر اسنیپ چیکنگ، واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹر کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے
وزیر داخلہ سندھ نے یہ بھی کہا کہ مزارات اور درگاہوں پر آنے والے زائرین کی سہولت اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا جائے۔
ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کھلے میدانوں اور قبرستانوں میں ہونے والی عبادات کے دوران بھی مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور کوآرڈی نیشن برقرار رکھا جائے۔
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ کنٹرول رومز کو شبِ برات کے دوران 24 گھنٹے فعال رکھا جائے۔کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری ردعمل اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور ٹریفک پولیس کو مذہبی مقامات اور بڑے اجتماعات کے اطراف ٹریفک مینجمنٹ پلان نافذالعمل کیا جائے۔
آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ سندھ کو یقینی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔