امریکی ویب سائٹ “Axios” نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو علاقائی ذرائع کے مطابق مصر، قطر اور ترکی آئندہ ہفتے کے دوران انقرہ میں ایک ممکنہ اجلاس کے انعقاد پر کام کر رہے ہیں، جس میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایران کے متعدد اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ویب سائٹ “Axios” نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو علاقائی ذرائع کے مطابق مصر، قطر اور ترکی آئندہ ہفتے کے دوران انقرہ میں ایک ممکنہ اجلاس کے انعقاد پر کام کر رہے ہیں، جس میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایران کے متعدد اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ یہ کوشش دونوں فریقوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرانے کے لیے ثالثی کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ نے شریک ممالک میں سے ایک کے عہدیدار کے حوالے سے کہا: "معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں" انہوں نے مزید کہا کہ وہ تینوں ممالک، جنہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا تھا، واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ذریعے ایک علاقائی جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح، ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی “Axios” کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے متعدد رابطہ چینلز کے ذریعے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے پر مذاکرات کے لیے ایک ملاقات کے انعقاد پر آمادہ ہیں۔ ایسے وقت میں جب خلیج میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر، قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے ہفتے کے روز تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ اسی تناظر میں، لاریجانی نے اس سے قبل کہا تھا کہ مصنوعی طور پر کھڑی کی گئی میڈیا جنگ کے برعکس، مذاکرات کے لیے ضروری ڈھانچے کی تشکیل کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے کشیدگی سے گریز اور فوجی حل کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی طرح، ترکی کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے دو روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی میزبانی کی اور بحران کے حل کے لیے سفارت کاری کو اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کر رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی