تین علاقائی ممالک کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
امریکی ویب سائٹ “Axios” نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو علاقائی ذرائع کے مطابق مصر، قطر اور ترکی آئندہ ہفتے کے دوران انقرہ میں ایک ممکنہ اجلاس کے انعقاد پر کام کر رہے ہیں، جس میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایران کے متعدد اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ویب سائٹ “Axios” نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو علاقائی ذرائع کے مطابق مصر، قطر اور ترکی آئندہ ہفتے کے دوران انقرہ میں ایک ممکنہ اجلاس کے انعقاد پر کام کر رہے ہیں، جس میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایران کے متعدد اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ یہ کوشش دونوں فریقوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرانے کے لیے ثالثی کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ نے شریک ممالک میں سے ایک کے عہدیدار کے حوالے سے کہا: "معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں" انہوں نے مزید کہا کہ وہ تینوں ممالک، جنہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا تھا، واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ذریعے ایک علاقائی جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح، ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی “Axios” کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے متعدد رابطہ چینلز کے ذریعے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے پر مذاکرات کے لیے ایک ملاقات کے انعقاد پر آمادہ ہیں۔ ایسے وقت میں جب خلیج میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر، قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے ہفتے کے روز تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ اسی تناظر میں، لاریجانی نے اس سے قبل کہا تھا کہ مصنوعی طور پر کھڑی کی گئی میڈیا جنگ کے برعکس، مذاکرات کے لیے ضروری ڈھانچے کی تشکیل کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے کشیدگی سے گریز اور فوجی حل کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی طرح، ترکی کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے دو روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی میزبانی کی اور بحران کے حل کے لیے سفارت کاری کو اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ