پُر امید ہیں کہ امریکہ سے جوہری معاہدہ ممکن ہے، ایرانی وزیرخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ وہ پُر امید ہیں کہ امریکہ سے جوہری معاہدہ ممکن ہے۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکہ پراعتمادنہیں ہے، بات چیت مصالحت کار دوستوں کے ذریعے جاری ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل اور مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ چھوڑنے کی بات ناممکن ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران پر حملے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔امریکی صدر کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائدعوام کی حمایت حاصل نہیں, بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں اس کا صرف عسکری حل ہے: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہ امریکہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔