پُر امید ہیں کہ امریکہ سے جوہری معاہدہ ممکن ہے، ایرانی وزیرخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ وہ پُر امید ہیں کہ امریکہ سے جوہری معاہدہ ممکن ہے۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکہ پراعتمادنہیں ہے، بات چیت مصالحت کار دوستوں کے ذریعے جاری ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل اور مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ چھوڑنے کی بات ناممکن ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران پر حملے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔امریکی صدر کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائدعوام کی حمایت حاصل نہیں, بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں اس کا صرف عسکری حل ہے: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہ امریکہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔