بلوچستان حملے، پاک ایران کے خلاف مشترکہ دشمن کی سازش
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: اس وقت ایک طرف پاک ایران تعلقات اپنے عروج پہ ہیں تو دوسری طرف حکومت پاکستان امریکی مسخرے صدر کی تقاریر میں وزیر اعظم پاکستان و فیلڈ مارشل کے نام پکارے جانے پہ بغلیں بجاتے نہیں تھکتے، جبکہ حقیقت میں امریکہ، اسرائیل کے ہر جرم میں برابر کا حصہ دار ہے جو کسی بھی طور پاکستان کے وجود کے استحکام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس وقت کے انتظارمیں ہے کہ کب اسے پاکستان کی ایٹمی سایٹس کو تباہ کرنے کا موقع ملے۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر
پاکستان میں ایک بار پھر صوبہ بلوچستان میں کئی شہروں میں منظم حملوں میں بہت سے لوگ جان سے چلے گئے۔ بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں، ان حملوں کی نوعیت اور ٹائمنگ کو دیکھا جائے تو بہت اہمیت کی حامل ہے، بہت سے نکات سامنے آتے ہیں، بلوچستان ایران کیساتھ متصل پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں ایک عرصے سے بلوچ علیحدگی پسند گروہوں جنہیں حکومت اب فتنہ الہندوستان کے نام سے لکھتی پڑھی ہے نے منظم حملے شروع کر رکھے ہیں، ان حملوں میں جو پہاڑی سلسلوں سے داغے جانے والے راکٹ لانچرز سے شروع ہوئے تھے، اب شہروں میں سڑکوں اور بازارں، عوامی و سرکاری مقامات پہ کھلے عام ہجومی حملوں اور خودکش دھماکوں تک پہنچ چکے ہیں، ملک دشمن بلوچ علیحدگی پسندوں کو عالمی طاقتوں کی بھرپور مدد حاصل ہے۔
ان دنوں میں جب ایران امریکہ کشیدگی عروج پہ ہے اور امریکہ ایران پہ حملے کیلئے پر تول رہا ہے، ان حملوں سے قبل ایک مہم مظاہرین کی شکل میں ایرانی حکومت نے ناکام بنایا ہے اور سازشوں کا سلسلہ جاری ہے، بلوچستان کے کئی ایک شہروں میں ایک ہی دن میں ہوئے حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران پہ امریکی حملے کی باز گشت چہار جانب سنائی دے رہی ہے، امریکہ اور اس کے فکری و نظریاتی اتحادی جن میں سب سے اوپر تکفیری گروہ آتے ہیں اور ان کی سرپرستی افغانستان کی حکومت کے پاس ہے، عجیب ہے کہ پاکستانی بلوچ علیحدگی پسندوں، ایرانی بلوچوں کی دہشت گرد تنظیموں اور پاک و ایران دشمن قوتوں جن میں بھارت و اسرائیل سر فہرست ہیں کا طالبان کیساتھ گہرا ربط سامنے ہے، مودی حکومت کا اسرائیل کیساتھ تعاون اور اسرائیل پاک بھارت ٹاکرے میں بھارت کیساتھ دفاعی تعاون کھلی حقیقت ہے، پاکستان میں ڈرونز حملے اسرائیلی ساختہ ڈرونز سے کیے گئے تھے۔
بھارت کے بعد افغانستان کی طرف سے بھارتی آشیرباد سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردانہ حملے، سرحدی تنازعات اور کاروائیاں بہت بڑھ چکی ہیں، جن میں حکومت کابل مکمل ملوث ہے جس کے ثبوت عالمی سطح پہ حکومت پاکستان مختلف اداروں و ثالثوں کو دے چکی ہے، مگر بھارت کی مودی حکومت کی گود میں بیٹھ کے طالبان رجیم کو پاکستان کے خلاف اپنے سرپرست امریکہ کی پراکسیز بلوچ علیحدگی پسندوں اور تحریک طالبان، داعش وغیرہ کو دو برادر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے میں ذرا بھی شرمندگی نہیں ہے، اسی وجہ سے پاکستان کے بہت سے دینی حلقے بشمول وہ حلقے جنہوںنے طالبان کی حکومت آنے پہ مٹھائیاں تقسیم کیں اور جشن برپا کیے اب پاکستان کے خلاف ان کے کھلے اقدامات کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے اساتذہ سمجھے جانے والی بہت سی پاکستانی دینی شخصیات کے سمجھانے بجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی ضد،انا اور عالمی قوتوں کی نمک حلالی کا کام کرنے میں مشغول ہیں۔
حکومت پاکستان و فورسز نے بھی یہ تہیہ کرلیا ہے کہ اب ان دہشت گرد گروہوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا چاہے ان کا تعلق فتنہ الہندوستان سے ہے یا فتنہ الخوارج سے، حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ بہت طویل ہو چکا ہے، اس کو انجام تک پہنچانا ہی پاکستان، ایران اور خطے کی بھلائی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ اور عالمی استعماری طاقتیں بشمول بھارت اس خطے میں اپنی چودھراہٹ چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کا دیرینہ اور قریبی ترین دوست چین اس خطے میں ایران و پاکستان میں بڑی انویسٹمنٹ کر چکا ہے، جس کے باعث امریکہ کو یہ ناگوار گزرتا ہے، ایسے میں امریکہ کے پاس اس کی پراکسیز دہشت گردوں کے بٹن آن کرنے کے ماسوا کوئی چارہ نہیں، پاکستان کو ان حملوں کی ٹائنمنگ اور نوعیت دیکھ کے بہت ہی سمجھداری اور حکمت و تدبر سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس لیےکہ امریکہ کی دوستی، دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔
اس وقت ایک طرف پاک ایران تعلقات اپنے عروج پہ ہیں تو دوسری طرف حکومت پاکستان امریکی مسخرے صدر کی تقاریر میں وزیر اعظم پاکستان و فیلڈ مارشل کے نام پکارے جانے پہ بغلیں بجاتے نہیں تھکتے، جبکہ حقیقت میں امریکہ، اسرائیل کے ہر جرم میں برابر کا حصہ دار ہے جو کسی بھی طور پاکستان کے وجود کے استحکام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس وقت کے انتظارمیں ہے کہ کب اسے پاکستان کی ایٹمی سایٹس کو تباہ کرنے کا موقع ملے۔ عجیب ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اہل غزہ کی مدد کرنے کے بجائے اسرائیل کی مدد کیلئے بنائے جانے والے غزہ امن بورڈ مین شمولیت اختیار کر لی ہے جب کہ اس بورڈ میں اہل فلسطین کی نمائندگی ہی نہیں ہے، جس سے فلسطینی مقاومت و مزاحمت یقینا ہم سے خوش نہیں ہو سکتے۔
وہی فلسطینی جنہیں سات اکتوبر کے بعد سے اسی ہزار کی تعداد میں شہید کیا گیا ہے اور ان کی ہر چیز برباد کر دی گئی ہے، پاکستان کا ایسے پلیٹ فارم پہ جانا کسی بھی طور پاکستان کی نظریاتی اساس سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا اس پہ حکمرانوں کو ضرور تجدید نظر کی ضرورت ہے۔ پاک ایران حکمران جانتے ہیں کہ ان کی ہمسائیگی کبھی تبدیل نہیں ہوگی، برادرانہ رشتہ اور مذہب اسلام کی مشترکات کیساتھ خطے کے مفادات بھی مشترکہ ہیں اور اسی لحاظ سے دشمن بھی مشترکہ ہیں، جن کا خاتمہ بھی مشترکہ کاوشوں، کوششوں سے ہی ممکن ہے، الحمد للہ اس وقت مثالی تعلقات کی بدولت دہشت گردی کے فتنوں سے نمٹنے کیلئے بہت سے حوالوں سے مشترکہ منصوبہ بندی و تعاون کے سلسلہ کی خبریں سنائی دے رہی ہیں جو عوام و خاص کیلئے حوصلہ افزائی باعث ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت پاکستان بلوچ علیحدگی پاکستان کے سے پاکستان پاک ایران ان حملوں بہت سے اور اس
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی