Islam Times:
2026-07-24@02:45:49 GMT

بلوچستان حملے، پاک ایران کے خلاف مشترکہ دشمن کی سازش

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

بلوچستان حملے، پاک ایران کے خلاف مشترکہ دشمن کی سازش

اسلام ٹائمز: اس وقت ایک طرف پاک ایران تعلقات اپنے عروج پہ ہیں تو دوسری طرف حکومت پاکستان امریکی مسخرے صدر کی تقاریر میں وزیر اعظم پاکستان و فیلڈ مارشل کے نام پکارے جانے پہ بغلیں بجاتے نہیں تھکتے، جبکہ حقیقت میں امریکہ، اسرائیل کے ہر جرم میں برابر کا حصہ دار ہے جو کسی بھی طور پاکستان کے وجود کے استحکام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس وقت کے انتظارمیں ہے کہ کب اسے پاکستان کی ایٹمی سایٹس کو تباہ کرنے کا موقع ملے۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

پاکستان میں ایک بار پھر صوبہ بلوچستان میں کئی شہروں میں منظم حملوں میں بہت سے لوگ جان سے چلے گئے۔ بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں، ان حملوں کی نوعیت اور ٹائمنگ کو دیکھا جائے تو بہت اہمیت کی حامل ہے، بہت سے نکات سامنے آتے ہیں، بلوچستان ایران کیساتھ متصل پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں ایک عرصے سے بلوچ علیحدگی پسند گروہوں جنہیں حکومت اب فتنہ الہندوستان کے نام سے لکھتی پڑھی ہے نے منظم حملے شروع کر رکھے ہیں، ان حملوں میں جو پہاڑی سلسلوں سے داغے جانے والے راکٹ لانچرز سے شروع ہوئے تھے، اب شہروں میں سڑکوں اور بازارں، عوامی و سرکاری مقامات پہ کھلے عام ہجومی حملوں اور خودکش دھماکوں تک پہنچ چکے ہیں، ملک دشمن بلوچ علیحدگی پسندوں کو عالمی طاقتوں کی بھرپور مدد حاصل ہے۔

ان دنوں میں جب ایران امریکہ کشیدگی عروج پہ ہے اور امریکہ ایران پہ حملے کیلئے پر تول رہا ہے، ان حملوں سے قبل ایک مہم مظاہرین کی شکل میں ایرانی حکومت نے ناکام بنایا ہے اور سازشوں کا سلسلہ جاری ہے، بلوچستان  کے کئی ایک شہروں میں ایک ہی دن میں ہوئے حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران پہ امریکی حملے کی باز گشت چہار جانب سنائی دے رہی ہے، امریکہ اور اس کے فکری و نظریاتی اتحادی جن میں سب سے اوپر تکفیری گروہ آتے ہیں اور ان کی سرپرستی افغانستان کی حکومت کے پاس ہے، عجیب ہے کہ پاکستانی بلوچ علیحدگی پسندوں، ایرانی بلوچوں کی دہشت گرد تنظیموں اور پاک و ایران دشمن قوتوں جن میں بھارت و اسرائیل سر فہرست ہیں کا طالبان کیساتھ گہرا ربط سامنے ہے، مودی حکومت کا اسرائیل کیساتھ تعاون اور اسرائیل پاک بھارت ٹاکرے میں بھارت کیساتھ دفاعی تعاون کھلی حقیقت ہے، پاکستان میں ڈرونز حملے اسرائیلی ساختہ ڈرونز سے کیے گئے تھے۔

بھارت کے بعد افغانستان کی طرف سے بھارتی آشیرباد سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردانہ حملے، سرحدی تنازعات اور کاروائیاں بہت بڑھ چکی ہیں، جن میں حکومت کابل مکمل ملوث ہے جس کے ثبوت عالمی سطح پہ حکومت پاکستان مختلف اداروں و ثالثوں کو دے چکی ہے، مگر بھارت کی مودی حکومت کی گود میں بیٹھ کے طالبان رجیم کو پاکستان کے خلاف اپنے سرپرست امریکہ کی پراکسیز بلوچ علیحدگی پسندوں اور تحریک طالبان، داعش وغیرہ کو دو برادر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے میں ذرا بھی شرمندگی نہیں ہے، اسی وجہ سے پاکستان کے بہت سے دینی حلقے بشمول وہ حلقے جنہوںنے طالبان کی حکومت آنے پہ مٹھائیاں تقسیم کیں اور جشن برپا کیے اب پاکستان کے خلاف ان کے کھلے اقدامات کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے اساتذہ سمجھے جانے والی بہت سی پاکستانی دینی شخصیات کے سمجھانے بجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی ضد،انا اور عالمی قوتوں کی نمک حلالی کا کام کرنے میں مشغول ہیں۔

حکومت پاکستان و فورسز نے بھی یہ تہیہ کرلیا ہے کہ اب ان دہشت گرد گروہوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا چاہے ان کا تعلق فتنہ الہندوستان سے ہے یا فتنہ الخوارج سے، حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ بہت طویل ہو چکا ہے، اس کو انجام تک پہنچانا ہی پاکستان، ایران اور خطے کی بھلائی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ اور عالمی استعماری طاقتیں بشمول بھارت اس خطے میں اپنی چودھراہٹ چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کا دیرینہ اور قریبی ترین دوست چین اس خطے میں ایران و پاکستان میں بڑی انویسٹمنٹ کر چکا ہے، جس کے باعث امریکہ کو یہ ناگوار گزرتا ہے، ایسے میں امریکہ کے پاس اس کی پراکسیز دہشت گردوں کے بٹن آن کرنے کے ماسوا کوئی چارہ نہیں، پاکستان کو ان حملوں کی ٹائنمنگ اور نوعیت دیکھ کے بہت ہی سمجھداری اور حکمت و تدبر سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس لیےکہ امریکہ کی دوستی، دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔

اس وقت ایک طرف پاک ایران تعلقات اپنے عروج پہ ہیں تو دوسری طرف حکومت پاکستان امریکی مسخرے صدر کی تقاریر میں وزیر اعظم پاکستان و فیلڈ مارشل کے نام پکارے جانے پہ بغلیں بجاتے نہیں تھکتے، جبکہ حقیقت میں امریکہ، اسرائیل کے ہر جرم میں برابر کا حصہ دار ہے جو کسی بھی طور پاکستان کے وجود کے استحکام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس وقت کے انتظارمیں ہے کہ کب اسے پاکستان کی ایٹمی سایٹس کو تباہ کرنے کا موقع ملے۔ عجیب ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اہل غزہ کی مدد کرنے کے بجائے اسرائیل کی مدد کیلئے بنائے جانے والے غزہ امن بورڈ مین شمولیت اختیار کر لی ہے جب کہ اس بورڈ میں اہل فلسطین کی نمائندگی ہی نہیں ہے، جس سے فلسطینی مقاومت و مزاحمت یقینا ہم سے خوش نہیں ہو سکتے۔

وہی فلسطینی جنہیں سات اکتوبر کے بعد سے اسی ہزار کی تعداد میں شہید کیا گیا ہے اور ان کی ہر چیز برباد کر دی گئی ہے، پاکستان کا ایسے پلیٹ فارم پہ جانا کسی بھی طور پاکستان کی نظریاتی اساس سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا اس پہ حکمرانوں کو ضرور تجدید نظر کی ضرورت ہے۔ پاک ایران حکمران جانتے ہیں کہ ان کی ہمسائیگی کبھی تبدیل نہیں ہوگی، برادرانہ رشتہ اور مذہب اسلام کی مشترکات کیساتھ خطے کے مفادات بھی مشترکہ ہیں اور اسی لحاظ سے دشمن بھی مشترکہ ہیں، جن کا خاتمہ بھی مشترکہ کاوشوں، کوششوں سے ہی ممکن ہے، الحمد للہ اس وقت مثالی تعلقات کی بدولت دہشت گردی کے فتنوں سے نمٹنے کیلئے بہت سے حوالوں سے مشترکہ منصوبہ بندی و تعاون کے سلسلہ کی خبریں سنائی دے رہی ہیں جو عوام و خاص کیلئے حوصلہ افزائی باعث ہیں۔                                                   

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حکومت پاکستان بلوچ علیحدگی پاکستان کے سے پاکستان پاک ایران ان حملوں بہت سے اور اس

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل