ٹی20 کپتان سلمان علی آغا ورلڈ کپ میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کے خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف مکمل کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہر شعبے میں برتری حاصل کی، پچھلے 2 دنوں میں ہم نے ہر شعبے میں عمدہ کارکردگی دکھائی، میں فی الحال بہترین فارم میں ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم نے ٹی20 انٹرنیشنل میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا
سلمان علی آغا نے آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹی20 میں پاکستان کی کامیابی کے بعد گفتگو میں کہا ’میں جانتا ہوں کہ کپتانی کے دوران بیٹنگ کس طرح ہینڈل کرنی ہے اور یہ ورلڈ کپ میں بھی کرنا چاہتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ شاہین آفریدی نے شاندار کارکردگی دکھائی، نسیم شاہ بھی بہت مؤثر رہے۔’ 5اسپنرز کے ساتھ کھیلنا آسان نہیں، لیکن ہر اسپنر نے موقع پر وکٹیں حاصل کیں، ہم نے فیلڈنگ پر بھی خاص توجہ دی اور اپنی خامیوں کو دور کیا۔‘
’بنیادی اصولوں پر فوکس کرنا ضروری ہے‘میچ کے بہترین کھلاڑی محمد نواز نے کہا کہ ایسی کنڈیشنز میں ٹیم کے لیے کچھ کردکھانا اہم ہوتا ہے۔ سست وکٹ پر بنیادی اصولوں پر فوکس کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی20: پاکستان نے آسٹریلیا کو 111 رنز سے شکست دے کر 7 سال بعد سیریز میں وائٹ واش کرلیا
انہوں نے کہا کہ وکٹ سست تھی، اس لیے انہوں نے کوشش کی کہ گیند ایسے علاقوں میں پھینکیں جہاں بلے باز زیادہ سکور نہ کر سکیں اور ٹیم کے حق میں وکٹیں حاصل ہوں۔
’سیریز سے سبق لے کر ورلڈ کپ کی تیاری کریں گے‘مچل مارش نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے پوری سیریز میں ان کی ٹیم کو آؤٹ پلے کیا۔ انہوں نے کہا، چیزیں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اس وکٹ پر ٹارگٹ کا پیچھا کرنا مشکل ہے اور شراکت داری بہت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اچھی ٹیم ہے اگر آسٹریلیا کو شکست دی تو یہ اپ سیٹ نہیں ہوگا، سرفراز احمد
انہوں نے کہا کہ ہم سیریز سے سبق لیں گے اور ورلڈ کپ کی تیاری کریں گے۔ پاکستان میں کرکٹ شائقین کا جذبہ لاجواب تھا اور ہمیں کھیل کر بہت خوشی ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسٹریلیا پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سلمان علی آغا کپتان کرکٹ وائٹ واش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سلمان علی ا غا کپتان کرکٹ وائٹ واش انہوں نے کہا ا سٹریلیا سلمان علی نے کہا کہ ورلڈ کپ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔