سعودی عرب: پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ترکیہ شامل نہیں ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض:سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ موجودہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ کسی بھی صورت شامل نہیں ہوگا۔ یہ وضاحت ایسے دعووں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ایک ترک عہدیدار نے رواں ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ ترکیہ ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔
سعودی فوج سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ یہ معاہدہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ نوعیت کا ہے اور کسی تیسرے ملک کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ سعودی عہدیداروں نے بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے ان سوالات کو بھی مسترد کیا کہ آیا ترکیہ یا کوئی اور ملک اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔
ایک خلیجی عہدیدار نے بھی سعودی موقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارا دفاعی تعلق مکمل طور پر دوطرفہ ہے۔ ترکیہ کے ساتھ ہمارے الگ دفاعی معاہدے موجود ہیں، پاکستان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کسی تیسرے ملک کو شامل نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا اعلان گزشتہ برس کیا گیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات اٹھائے گئے، خصوصاً اس معاہدے کے ممکنہ جوہری پہلو کے حوالے سے، کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔
سعودی حکام نے اپنی حالیہ وضاحت میں اس تاثر کو مکمل طور پر رد کیا ہے کہ اس معاہدے میں ترکیہ یا کوئی اور ملک شامل ہو سکتا ہے اور زور دیا کہ یہ معاہدہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہی محدود رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کہ پاکستان شامل نہیں
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔