آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، پاکستانی مندوب
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، پاکستانی مندوب WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز
نیویارک: (آئی پی ایس) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایریا فارمولہ اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کی مثال اجاگر کی گئی، پاکستانی مندوب نے کہا کہ آبی وسائل کا معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا خطرناک مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی معاہدوں کے نظام کا امتحان ہے، یکطرفہ اقدامات سے سرحدی اور تجارتی معاہدے بھی کمزور ہو سکتے ہیں۔
عاصم افتخار کا مزید کہنا تھا کہ معاہدہ سیاست کی نذر ہوا تو عالمی اعتماد متاثر ہو گا، سندھ طاس معاہدہ دوطرفہ نہیں بلکہ عالمی نوعیت کا معاملہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہار امریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہار بلوچستان میں فورسز کا آپریشن مکمل: دو دن میں 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید امن پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہداکے لواحقین سے وعدہ ہے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے: وزیراعلی بلوچستان بحریہ ٹا ئون کے ملک ریاض پاکستان میں مقدمات سے پریشان ، صحت بگڑنے لگی آج باڑہ سیاسی اتحاد کا جرگہ تھا، جرگے نے صوبائی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگائے: عطا تارڑ ٹرمپ نے ایران کو ڈیڈ لائن دیدی؛ امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات میں لنگراندازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معاہدہ محفوظ نہیں
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔