غزہ امن بورڈ سے بھارت کیوں پریشان؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر حزب اختلاف کی جماعتیں شہباز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس بورڈ سے پاکستان یا فلسطینیوں کے لیے کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی ۔
یہ سراسر ٹرمپ کی ایک چال ہے ، یہ اس لیے کہ ٹرمپ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ اسرائیل کو کوئی نقصان پہنچے۔ یہ سراسر فلسطینیوں کے ساتھ کھلا ظلم ہے اور اسرائیل کی پیٹھ ٹھونکنے کے مترادف ہے۔
اب جیسے تیسے جنگ تو رک گئی ہے مگر غزہ کھنڈر بن کر خوفناک منظر پیش کر رہا ہے۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی جارحیت رکوا دی ہے اور تباہ حال غزہ میں مستقل امن قائم کرنے اور وہاں کے بے گھر لوگوں کی آبادکاری کے لیے ایک بورڈ آف پیس کے بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس بورڈ میں کئی ممالک شامل ہوں گے جو غزہ میں امن قائم رکھنے اور بے گھر افراد کی بحالی کے لیے کام کریں گے۔ اس بورڈ میں دنیا کے 59 ممالک کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے جن میں سے اب تک 20 کے قریب ممالک نے اس بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔
شہباز شریف نے ڈیوس اکنامک فورم اجلاس کے موقع پر بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔ پاکستان کی حزب اختلاف کا موقف اپنی جگہ مگر شہباز شریف نے شاید صدر ٹرمپ کے اس بیان کو مدنظر رکھا ہے کہ یہ بورڈ آگے چل کر دنیا کے دوسرے مسائل کے حل کے لیے بھی کام کر سکتا ہے۔
کچھ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کر سکتا ہے، اس بورڈ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل بھی نکل سکتا ہے۔ بہرحال شہباز شریف اس بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر کے مکمل مطمئن نظر آتے ہیں۔
شاید اس لیے کہ پاکستان اس چارٹر پر کیونکر دستخط نہیں کرتا کیونکہ جب سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا جیسے اہم اسلامی ممالک نے دستخط کردیے ہیں تو پاکستان کا دستخط نہ کرنا، اس کے فلسطینیوں کے کاز سے ہمدردی کو سراسر ایک دھوکہ سمجھا جاتا۔
اسلامی ممالک میں اس سے پاکستان کے بارے میں جو منفی تاثر پیدا ہوتا وہ تو اپنی جگہ اُدھر بھارت اور اسرائیل جیسے پاکستان دشمن ملک پاکستان پر طنزکرتے اور اسے نام نہاد اسلامی ممالک کے مفادات کا چیمپئن بننے کا طعنہ دیتے۔
چنانچہ غزہ امن چارٹر پر پاکستان کا دستخط کرنا ضروری تھا پھر حزب اختلاف کی جانب سے چارٹر پر دستخط کرنے کی صورت میں اس کے جن نقصانات کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ تو ابھی فرضی ہیں کیونکہ آگے جا کر کیا ہوگا کسی کو نہیں پتا۔
بہرحال ٹرمپ دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے جب وہ جنگ رکوا سکتے ہیں تو ان سے آگے بھی خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ اسرائیل نے پاکستان کے امن بورڈ میں شمولیت کی سخت مخالفت کی ہے، اس نے ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ پاکستان کو اس بورڈ سے باہرکر دیا جائے۔
آخر وہ پاکستان کی شمولیت پر کیوں برہم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کا سچا دوست ہے، وہ انھیں اسرائیل کی جارحیت سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔
وہ ایک ذمے دار اور فعال ملک ہے، اس لیے تمام اسلامی ممالک اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور کھلے طور پر اسرائیل کے خلاف عربوں کی مدد کی ہے پھر نیتن یاہو کو پتا ہے کہ وہ عربوں کو تو دھوکہ دے سکتا ہے مگر پاکستان کو دھوکہ دینا آسان نہیں، جب وہ بھارت جیسی بڑی طاقت کے دانت کھٹے کر سکتا ہے تو پھر اسرائیل اس کے سامنے کچھ نہیں ہے۔
اگر امریکا اسرائیل کی پشت پناہی نہ کرے تو پاکستان اسرائیل سے نمٹ سکتا ہے ابھی ایک ماہ قبل اسرائیل ایران جنگ میں اسرائیل ایرانی میزائلوں کی تاب نہ لا سکا اور جنگ بندی پر مجبور ہوگیا تو پھر پاکستان کی فوجی طاقت سے تو پوری دنیا واقف ہے۔
اس طرح پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے سے اسرائیل کی من مانی نہیں چل سکے گی۔ پاکستان نے اس بورڈ میں اس لیے بھی شریک ہونا ضروری سمجھا کہ ٹرمپ کے مطابق یہ بورڈ فلسطینیوں کے آزاد وطن کی جانب ایک اہم قدم ہے، اگر پاکستان اس کے چارٹر پر دستخط نہ کرتا تو ملک کے اندر بھی کہا جاتا کہ پاکستان نے فلسطینی کاز سے منہ موڑا ہے۔
پاکستان کے کئی سرکردہ تجزیہ کاروں نے پاکستان کے اس بورڈ میں شمولیت کو سراہا ہے۔ عالمی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور مشاہد حسین سید نے اسے مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، کیونکہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس بورڈ کو دیگر عالمی سیاسی مسائل کے حل تک پھیلایا جا سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے کہا ہے کہ حکومت کا فیصلہ دانش مندانہ ہے، اس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی بھی امید کی جا سکتی ہے۔ بھارت کے اس بورڈ میں شامل نہ ہونے کی وجہ بھی یہی قرار دی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں رہے سابق بھارتی سفیر اکبر الدین نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بورڈ سے دور رہے، کیونکہ یہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بھی جا سکتا ہے۔
دیگر بھارتی تجزیہ کاروں نے بھی مودی کو اس بورڈ میں شمولیت سے روکا ہے، لگتا ہے حکومت نے اس بورڈ میں شمولیت بہت سوچ سمجھ کر کی ہے اور اب مسئلہ کشمیرکا حل بھی اس سے نکل سکتا ہے، ہماری حزب اختلاف نے اس نکتے کو شاید نہیں سمجھا۔
اس وقت جمود میں پڑے مسئلہ کشمیر کا اگر کسی صورت حل نکل سکتا ہے تو یہ کشمیریوں کے لیے ایک اچھی خبر ہو گی۔ جب اس بورڈ کے ذریعے فلسطینیوں کے مسئلے کا حل نکل سکتا ہے تو کشمیریوں کا مسئلہ بھی ان کی طرح حق خود اختیاریت کا ہی ہے۔
اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے متوازی قرار دینا غلط ہے، کیونکہ اس کی تشکیل سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے نتیجے میں ہوئی ہے تو اسے کیسے اقوام متحدہ سے ہٹ کر کیا جا سکتا ہے۔ سب ہی دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت اقوام متحدہ ایک مردہ لاش بن چکا ہے وہ کسی بھی عالمی مسئلے کو حل نہیں کر پا رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے ویٹو پاور رکھنے والے ممالک اسے چلنے نہیں دے رہے جب کہ غزہ امن بورڈ میں یہ مسئلہ نہیں ہے، البتہ اس کا چیئرمین یعنی کہ ٹرمپ کا فیصلہ حتمی ہوگا اور اسے چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
بھارت شاید اسی لیے گھبرایا ہوا ہے کہ اس وقت ٹرمپ سے اس کے تعلقات کشیدہ ہیں اگر وہ بورڈ کا رکن بنتا ہے اور ٹرمپ آگے چل کر مسئلہ کشمیر کو اس میں لے آئے تو وہ جو اس کا حل پیش کریں گے وہ سب کو ماننا ہوگا۔
ٹرمپ شروع سے مسئلہ کشمیر کو اپنی ثالثی سے حل کرانے کی پیش کش کر رہے ہیں مگر بھارت یہ بات نہیں مان رہا، کیونکہ اسے پورا یقین ہے کہ اگر ٹرمپ نے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تو بھارت کو کشمیر پر اپنے جھوٹے دعوے سے دستبردار ہونا پڑے گا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا پڑے گا۔
بہرحال اب اگر اس بورڈ کے ذریعے کشمیر کے دیرینہ مسئلے کا حل نکل آتا ہے تو نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ خطہ ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چارٹر پر دستخط کر کے چارٹر پر دستخط بورڈ میں شمولیت اسلامی ممالک فلسطینیوں کے اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر نکل سکتا ہے شہباز شریف کہ پاکستان حزب اختلاف پاکستان کے اسرائیل کی اس بورڈ کے کشمیر کے ہے کہ اس کی جانب کہ ٹرمپ ہے اور اس لیے اور اس کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔