سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع پاکستان انٹرنیشنل اسکول انگلش سیکشن میں سالانہ اسپورٹس گالا انتہائی جوش و خروش اور شاندار انداز میں منعقد ہوا۔ اس رنگا رنگ تقریب میں طلبا و طالبات نے مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں بھرپور شرکت کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

اسپورٹس گالا کے دوران کرکٹ، فٹ بال، بیڈمنٹن، کراٹے، تائیکوانڈو سمیت دیگر کھیلوں کے دلچسپ مقابلے منعقد کیے گئے، جہاں طلبہ نے نظم و ضبط، ٹیم اسپرٹ اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیں: ریاض میں یو ای ٹی المنائی ایسوسی ایشن سعودی عرب کے زیرِ اہتمام نیٹ ورکنگ ایونٹ

تقریب میں چیئرمین اسکول مینجمنٹ کونسل انجینیئر سعود سرور، وائس چیئرمین ڈاکٹر یاسر جاوید، کمیونٹی ویلفیئر اتاشی صاعد عزیز، نجم الثاقب، ڈاکٹر شہزاد احمد اور طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اسپورٹس گالا کے انتظامات پرنسپل محمد تنویر، محمد ساجد، ندیم اقبال اعوان اور اسکول اسٹاف نے انجام دیے، جنہوں نے طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ اسپورٹس گالا طلبہ کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مہمانانِ خصوصی نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ایسی مثبت سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے لیے ناگزیر ہیں۔

مزید پڑھیں: ریاض میں بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ایونٹ کا انعقاد، پاکستانی ماہرین کی شاندار شرکت

تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسپورٹس گالا پاکستان انٹرنیشنل اسکول ریاض سعودی عرب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپورٹس گالا پاکستان انٹرنیشنل اسکول ریاض وی نیوز اسپورٹس گالا

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی