Express News:
2026-07-24@00:57:31 GMT

حد ہے بھئی حد ہے

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

’’ مبارک ہو بیٹا، بہت اچھا ہوا ہے کہ تمہیں اتنے اچھے اسکول میں ملازمت مل گئی ہے‘‘ میںنے اپنی دوست کی بیٹی کو مبارک باد دی۔

میری دوست نے ہی بتایا تھا کہ اس کی بیٹی کو ایک بہت اچھے اسکول میں ملازمت مل گئی تھی اور اس کے دونوں بچے بھی ماں کے ساتھ ہی اس کے اسکول جایا کریں گے، ظاہر ہے کہ اگر ماں کو ملازمت کرنا ہے اور دونوں بچے بھی اس عمر میں ہیں کہ اسکول جا سکتے ہیں تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔

’’ بچوں کی فیس میں کوئی رعایت تو ملے گی نا آپ کوبیٹا؟ ’’ جی آنٹی ، میرے دونوں بچوں کی فیس نصف ہے‘‘۔ اس نے بتایا۔

’’ ارے یہ تو بہت اچھا ہے، اصولا تو ایک بچے کی پوری فیس معاف ہونا چاہئے اور دوسرے کی نصف‘‘ ۔ میں نے کہا ، ’’ لیکن چلو کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہی ہے ‘‘۔

’’ بس آنٹی دل کا دلاسہ ہی ہے ورنہ اس ملازمت سے مجھے کیا ملتا ہے‘‘ ۔ اس نے کہا۔

’’ کیوں بیٹا، دو بچوں کی فیس پر نصف رعایت ہے، سمجھو کہ آپ کے دو بچوں میں سے ایک بلا فیس کے پڑھ رہا ہے‘‘۔ میں نے اسے سمجھایا۔’لیکن آنٹی آپ نے نہ میری تنخواہ کا پوچھا ہے اور نہ میرے بچوں کی فیس کا‘‘۔ اس نے مسکرا کر سوال کیا ۔’’ اچھا ، کتنی تنخواہ ہے، آپ کی اور بچوں کی فیس کتنی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ ایک بچے کی فیس بتیس ہزار روپے ماہانہ ہے آنٹی، ان دونوں کی فیس کو نصف کر کے دونوں کے بتیس ہزار روپے دیتی ہوں اور میری تنخواہ تیس ہزار روپے ماہانہ ہے۔

میں ان کی فیس کے دو ہزار بھی اپنے میاں کی جیب سے ادا کرتی ہوں، ان کی کتابیں، بستے، یونیفارم، اسکول کا لنچ اوراسکول جانے کے لیے ٹیکسی کا ماہانہ کرایہ اس کے علاوہ ہے، اب ملازمت کرنا میری مجبوری ہے ورنہ میں اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکتی۔

کوئی بھی ایسا نجی اسکول نہیں ہے جہاں پر کسی ٹیچر کو دو بچوں کی فیس کے برابر بھی تنخواہ ملتی ہو، ایک چھٹی بھی کرو تو تنخواہ کٹتی ہے جب کہ سرکاری اداروں میں اس وقت ٹیچرز کی تنخواہیں چھ عددی کے برابر ہو گئی ہیں ، ہمیں گرمیوں اور سردیو ں کی چھٹیوں میں بھی اسکول جانا ہوتا ہے جب کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کو ہر طرح کی مراعات حاصل ہیں۔

گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کے علاوہ انھیں بیماری یا ایمر جنسی کی صورت میں بھی چھٹیوں کا کوٹا ملتا ہے اور ہم اس سے محروم ہیں‘‘۔

میں اس کی باتیں سن کر بڑے بھاری دل کے ساتھ گھر لوٹی اور یہی سوچنے لگی کہ ان نجی اسکولوں کو بھی کوئی لگام دینے کاطریقہ ہوگا ، یقینا جہاں حکومت ہر محکمے میں ایسی ایسی تبدیلیاں لا رہی ہے وہاں محکمہء تعلیم اس سے محروم کیوں ہے؟

کیوں حکومتی سطح پر ان مسائل کا نوٹس نہیں لیا جاتا ہے اور ایسا طریقہء کار وضع کیا جائے کہ ان نجی تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ فیس وصول کرنے کی ایک حد مقرر کر دی جائے۔

اتنی بے لگام پالیسی کیوں ہے، ان تمام مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کو ٹیوشن سینٹرز میں بھی بھیجنا پڑتا ہے۔ اونچی دکانوں پر پھیکے پکوان والا معاملہ ہے -

صرف چار تجاویز حاضر خدمت ہیں، اگر کسی صاحب اقتدار کی نظر سے گزریں ۔

نجی تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ فیس وصول کرنے کی ایک حد مقرر کی جانا چاہئے۔ تین چار سال کے بچوں کی فیس کی شرح دو ہزار سے لے کر ساٹھ ستر ہزار روپے ماہانہ تک چلی جاتی ہے۔

سرکاری اسکولز میں فیس نہ ہونے کے برابر ہے۔ طویل چھٹیوںکی فیس والدین پر ایک گراں بوجھ ہوتا ہے ۔ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان اداروں میں ٹیچرز اور بچوں کے تناسب کو چیک کیا جانا چاہئے۔ اگر ایک ادارے میں اوسطا پانچ سو طالب علم ہیں جو پچاس ہزار ماہانہ فیس دیتا ہے تو یہ پچیس کروڑ کی ماہانہ آمدن ہے اور پچاس اساتذہ ہیں جنھیں اوسطا ایک لاکھ روپیہ ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے تو یہ تنخواہ پچاس لاکھ روپے بن جاتی ہے۔

باقی اخراجات ملا کر بھی کسی طرح اخراجات پچیس کروڑ روپے کے قریب بھی نہیں پہنچتے ہیں ۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ نجی تعلیمی اداروں میں ٹیچرز کو چھ ماہ سے ایک سال کا عرصہ probation کا دیا جاتا ہے جس عرصے میں انھیں بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے اور انھیں موسم گرما اور سرما کی چھٹیوں کی تنخواہ نہیں دی جاتی ہے ۔

نجی تعلیمی ادراوں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ اداروں کے لوئر اسٹاف کی کم از کم تنخواہ بغیرمراعات کے وہی رکھیں جو حکومت کی قائم کردہ کم از کم تنخواہ کی شرح ہے۔

اداروں کے چپڑاسی، چوکیدار، مالی اور آیا وغیرہ اس زمرے میں آتے ہیں، اگر کوئی آیا اسکول کے پلے گروپ میں بچوں کی دیکھ بھال کرتی اور ان کے ڈائپر وغیرہ بھی بدلتی ہے تو اسے اپنی تنخوا ہ کے ساتھ مزید اس تنخواہ کا پچاس فیصد بطور بونس ملنا چاہئے کیونکہ بچوں کی دیکھ بھال کا عوضانہ زیادہ ہوتا ہے۔

اداروں کی ہر ٹیچر کو اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی اس کلاس کے حساب سے جس کلاس کو وہ پڑھاتے ہیں، کم از کم چار بچوں کی فیس کے برابر تنخواہ دی جانا چاہئے اور ان کاایک بچہ مفت تعلیم پر، دوسرا اور تیسراپچاس فیصد رعایت پرہونا چاہئے، ا س سے زیادہ بچے بھی ہوں تو اسی حساب سے انھیں پچاس فیصد رعایت دی جانا چاہئے۔

اس کے علاوہ ان کے لیے چند دنوں کی ایمر جنسی اور میڈیکل چھٹی کا بھی تنخواہ کی کٹوتی کے بغیر کوٹا ہونا چاہئے۔ انھیں ٹریول الاؤنس ملنا چاہئے۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں اساتذہ کو عزت دی جاتی ہے اور ہمارے ملک میں ان اساتذہ کو جو تنخواہ ملتی ہے وہ ہمارے گھروں میں صفائی کرنے والی ملازماؤں سے بھی کم ملتی ہے۔

تما م نجی تعلیمی اداروں میں جہاں جہاں بچوں کے لیے اسکول کی ٹرانسپورٹ فراہم کی جاتی ہے اور اس پر اگر چہ بھاری کرایے وصول کیے جاتے ہیں، ان میں بچے ٹھونس ٹھونس کر بھرے ہوتے ہیں۔

گرمیوں کی چھٹیاں، سردیوں کی چھٹیاں ہوں یا سال میں ہونے والی باقی چھٹیاں جو ملا جلا کر لگ بھگ دو سو پچھتر دن بن جاتے ہیں، ان دنوں کا بھی بس کا کرایہ والدین کو دینا پڑتا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔

مغربی ممالک میں ایسا ہوتا ہو گا، کینیڈا میں تعلیمی اداروں کی بسیں اور دیگر ٹرانسپورٹ تمام چھٹیوں میں سرکار کے زیر حکم کام کرنے کی پابند ہے اور اسے حکومت کے احکامات کے تحت مختلف روٹ پر چلایا جاتا ہے اور ان کے ڈرائیوروں کو کام کرنے کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ وہاں اسکول کی بس میں بچو ں کو کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا ہے۔

ہمارے اہم ترین حکومتی عہدے دار دنیا بھر میں گھومتے اور ان کے نظام کو دیکھتے ہیں، کیا انھیں اس کی تفصیلات نظر نہیں آتیں اور ان کا فرض نہیں ہے کہ ان کی روشنی میں اپنے ملک میں نظام کو بہتر کریں ۔کاش عوام کے اس نوعیت کے مسائل کا حل بھی حکومتی ترجیحات کا حصہ بن جائے اور لوگوں کی زندگیاں آسان ہو جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نجی تعلیمی اداروں میں بچوں کی فیس جانا چاہئے دی جاتی ہے تنخواہ دی ہزار روپے کے برابر کرنے کی اور ان ہے اور فیس کے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف