غزہ: اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی، فضائی حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران آج ہونے والے فضائی حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سٹی اور خان یونس میں حملے کیے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنماؤں کے علاوہ اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 فلسطینی شہید، 4 زخمی
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل کے یہ بے بنیاد دعوے امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں اور پیس کونسل کے تمام فریقین کی توہین ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل نے 1300 سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں سے دو ریاستی حل کیلئے کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، سعودی عرب
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے بعد 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، 66 مرتبہ رہائشی علاقوں میں چھاپے مارے گئے اور 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کم از کم 50 فلسطینی افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 70,000 فلسطینی شہری شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، شہدا میں 18ہزار 592 بچے اور 12 ہزار 400خواتین بھی شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل جنگ بندی خلاف ورزی غزہ فلسطینی شہید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل خلاف ورزی فلسطینی شہید فلسطینی شہید حملوں میں
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں