اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ کے قریبی 11 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
رواں ماہ کے اوائل میں اس کیس کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی، جس میں اسرائیلی اٹارنی جنرل کے دفتر میں گیلی بہارو میراہ نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے شن بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی کے رشتہ دار سے تفتیش کی جائے گی، جو اس کیس کا مرکزی ملزم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی کے انتہائی حساس معاملات میں سے ایک ایشو اور کیس کے سلسلے میں اسرائیلی پولیس نے اٹارنی جنرل کے حکم پر شن بیٹ کے سربراہ کے قریبی 11 افراد کے خلاف غزہ کی پٹی میں سامان کی اسمگلنگ میں حصہ لینے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔ ایک حساس سیکیورٹی کیس میں ایک اہم پیش رفت میں پیشرفت کے نتیجے میں 11 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی ہے جن پر اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں سامان سمگل کرنے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے، مقدمے کی اہمیت کے باوجود اس کی تفصیلات اب بھی اس مرحلے پر اشاعت پر پابندی سے مشروط ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں اس کیس کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی، جس میں اسرائیلی اٹارنی جنرل کے دفتر میں گیلی بہارو میراہ نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے شن بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی کے رشتہ دار سے تفتیش کی جائے گی، جو اس کیس کا مرکزی ملزم ہے، شن بیٹ کی بجائے پولیس کرے گی، تاہم ڈیوڈ زینی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ قانونی ماہر ایوشائی گرینزگ نے رپورٹ کیا کہ شن بیٹ کے سربراہ کے رشتہ دار کے خلاف الزامات کو اٹارنی جنرل کے دفتر کے حکم سے مزید سنگین جرائم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ آیا مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر کی جائے، جو اسپاٹ لائٹ میں رکھا جائے۔ دو روز قبل عدالت نے اس کی اشاعت پر پابندی کو جزوی طور پر نرم کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل سے غزہ سامان سمگل کرنے کا ایک کثیر الجہتی اور وسیع مقدمہ زیر تفتیش ہے۔ اس کے علاوہ، فوجداری ڈویژن کے سربراہ، لی ایش نے اعلان کیا کہ مشتبہ افراد کی گاڑیوں میں سے کچھ کی تلاشی کے دوران ہتھیار ملے اور ضبط کیے گئے۔گزشتہ جمعرات کو اسرائیلی پولیس نے پراسیکیوٹر کے دفتر سے اس مقدمے میں ملوث 11 افراد پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ اس وقت مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شن بیٹ کے سربراہ اٹارنی جنرل کے کیا گیا کے دفتر اس کیس سے ایک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی