رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین کے روابط امریکی اور اتحادی انٹیلی جنس اداروں سے بھی رہے، جبکہ وہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک کے قریب تھا اور مبینہ طور پر جاسوسی کی تربیت بھی حاصل کی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید خفیہ سرکاری دستاویزات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن میں امریکی حکام اور عالمی طاقتوں سے متعلق سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے جڑی تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان میں 2 ہزار ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد تصاویر شامل ہیں، تاہم متعدد حصے خفیہ رکھے گئے ہیں جبکہ کئی صفحات مکمل طور پر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔ دستاویزات میں ایف بی آئی کی تفتیشی رپورٹس، ای میلز، ایپسٹین کی جائیدادوں کی تفصیلات اور نیویارک کی جیل میں اس کی موت سے متعلق معلومات شامل ہیں، جسے اب تک ایک معمہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان دستاویزات میں بعض امریکی عہدیداروں پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات کے نام شامل ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ممالک نے امریکی سیاسی اور مالی حلقوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث "کمپرومائزڈ" ہو چکے تھے۔ رپورٹ میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایک بااثر کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین کے روابط امریکی اور اتحادی انٹیلی جنس اداروں سے بھی رہے، جبکہ وہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک کے قریب تھا اور مبینہ طور پر جاسوسی کی تربیت بھی حاصل کی۔ واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور عالمی اشرافیہ سے تعلقات رکھنے کے سنگین الزامات تھے۔ وہ 2019ء میں امریکی جیل میں مردہ پایا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے حالات آج تک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل