ٹرمپ اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث ’کمپرومائزڈ‘ ہو گئے، ایپسٹین فائلز میں تہلکہ خیز انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
واشنگٹن: امریکا کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید خفیہ سرکاری دستاویزات منظرِ عام پر آگئی ہیں، جن میں امریکی حکام اور عالمی طاقتوں سے متعلق سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے جڑی تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان میں 2 ہزار ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد تصاویر شامل ہیں، تاہم متعدد حصے خفیہ رکھے گئے ہیں جبکہ کئی صفحات مکمل طور پر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔
دستاویزات میں ایف بی آئی کی تفتیشی رپورٹس، ای میلز، ایپسٹین کی جائیدادوں کی تفصیلات اور نیویارک کی جیل میں اس کی موت سے متعلق معلومات شامل ہیں، جسے اب تک ایک معمہ قرار دیا جاتا ہے۔
ان دستاویزات میں بعض امریکی عہدیداروں پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات کے نام شامل ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ممالک نے امریکی سیاسی اور مالی حلقوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیںٹرمپ کا ایران کو خبردار کرنے والا پیغام، تہران نے مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کر دی
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کیخلاف احتجاج جرم بنادیا گیا؛ سی این این کے اینکر گرفتار
ٹرمپ کی درخواست پر پیوٹن نے کیف پر حملہ نہ کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی
دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث ’کمپرومائزڈ‘ ہو چکے تھے۔ رپورٹ میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایک بااثر کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین کے روابط امریکی اور اتحادی انٹیلی جنس اداروں سے بھی رہے، جبکہ وہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک کے قریب تھا اور مبینہ طور پر جاسوسی کی تربیت بھی حاصل کی۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور عالمی اشرافیہ سے تعلقات رکھنے کے سنگین الزامات تھے۔ وہ 2019 میں امریکی جیل میں مردہ پایا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے حالات آج تک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔