امریکا: جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹن کی ای میلز میں مودی کا نام سر فہرست
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
امریکا: جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹن کی ای میلز میں مودی کا نام سر فہرست
امریکا میں جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹن کی ای میلز میں بھارتی وزیراعظم مودی کا نام بھی سامنے آگیا۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیرعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مودی کے تعلق کو بھارت کے لیے انتہائی شرمناک قرار دے دیا۔
کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے اس پر وزیراعظم مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
کانگریس کا کہنا تھا کہ ایپسٹن نے اپنی ای میل میں واضح لکھا کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل گئے، وہاں امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچ گانا کیا اور یہ کرنا کام کر گیا۔
ای میل مودی کے جولائی 2017 کے دورہ اسرائیل کے 3 روز بعد لکھی گئی، اور اس سے پہلے جون 2017 میں مودی نے امریکا میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
واضح ہو گیا کہ وزیراعظم مودی کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ بہت گہرا اور پرانا تعلق ہے، مودی بتائیں کہ وہ ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟ دورہ کامیاب کیسے ہوا؟ وزیراعظم مودی، قوم جاننا چاہتی ہے جیفری ایپسٹین کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مودی کا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔