ٹرمپ کی امیگریشن کارروائیوں کیخلاف ملک گیر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے شہر منیا پولس میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس کو منی سوٹا سے واپس بلایا جائے۔ یہ احتجاج 2امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کیا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ ریاست منی سوٹا کے درالحکومت میں ہزاروں افراد نے وفاقی امیگریشن کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ کیلیفورنیا سے نیویارک تک طلبہ اور اساتذہ نے تعلیمی اداروں سے واک آؤٹ کیا۔ذرئع ابلاغ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے نیشنل امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت منیاپولس کے علاقے میں 3 ہزار وفاقی افسران تعینات کیے گئے ہیں، جو ٹیکٹیکل وردیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ یہ فورس منی ایپولس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مقابلے میں 5گنا بڑی بتائی جا رہی ہے۔امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے طریقہ کار اور فورس میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شہر کے ڈاؤن ٹاؤن میں شدید سرد موسم کے باوجود ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں کم عمر بچوں کے ساتھ خاندان، بزرگ جوڑے اور نوجوان سماجی کارکن شامل تھے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر صحافیوں پر ہونے والے حملوں پر آواز اٹھانے والی انسانی حقوق کی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلزم نے منی سوٹا میں سی این این کے سابق اینکر ڈان لیمن اور ایک آزاد صحافی کی گرفتاری کو میڈیا پر امریکی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اظہار رائے کو روکنے کی کارروائی ہے۔ دونوں صحافی تارکین وطن کے خلاف امریکی وفاقی ادارے کی کارروائیوں کی کوریج کر رہے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے صحافیوں کے خلاف اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ صحافت پر امریکا میں خوفناک حملہ ہے۔ یہ آمریکی آئین میں کی گئی پہلی ترمیم پر بھی حملہ کیا گیا ہے، جو انسانی آزادیوں اور آزادی اظہار رائے کو تحفظ دیتی ہے۔صحافتی آزادیوں کے لیے سرگرم اس تنظیم نے اپنے مذمتی بیان میں مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ لوگوں کے جاننے کے حق کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یاد رہے اس سے قبل اس طرح کے واقعات عام طور پر کمزور جمہوریت کے حامل ملکوں یا آمرانہ نظام رکھنے والی ریاستوں میں پیش آتے تھے۔ ان واقعات پر امریکا کا دفتر خارجہ اور دیگر ادارے بشمول امریکی کانگریس نوٹس لیتے تھے۔ امریکی انتظامیہ اظہار تشویش کرتی تھی اور ایسے ملکوں کو پابندیوں کی دھمکی دیتی تھی۔ تاہم اب یہ اقدامات امریکا نے اپنے ہاں بھی میڈیا کے خلاف تیز کر دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
محسن نقوی کی مستونگ کے قریب سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیشن جج عبدالحکیم اور گن مین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ محسن نقوی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مرحومین کی بلندی درجات کیلئے دعا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور دیگر افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محسن نقوی نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔