آئندہ چند برسوں میں پاکستان کے ساتھ تجارت دگنی کی جائے گی: تھائی سفیر WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز


اسلام آباد(سب نیوز)
پاکستان میں تعینات مملکتِ تھائی لینڈ کے سفیر، عزت مآب رونگ وُدھی ویرا بُتر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سے تین برسوں میں دگنا کرنے اور ایک مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھائی سرمایہ کاروں کے لیے بالخصوص تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔


ایک انٹرویو میں تھائی سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 1.

1 ارب امریکی ڈالر ہے اور ان کا ہدف ہے کہ اسے آئندہ دو سے تین برسوں میں بڑھا کر 2.2 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت میں اضافے کے لیے سب سے زیادہ صلاحیت نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور موجودہ رکاوٹوں کو ختم کرنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ حلال تجارت میں بے پناہ امکانات دیکھتا ہے، جہاں تھائی لینڈ کی عالمی معیار کی حلال فوڈ انڈسٹری پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلب کو باآسانی پورا کر سکتی ہے۔


انہوں نے مزید کہا،
“ہم پاکستان کی اعلیٰ معیار کی سمندری خوراک اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے بھی تھائی مارکیٹ میں بہتر رسائی کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔”
ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ روایتی اشیاء سے آگے بڑھ کر ایک متنوع تجارتی پورٹ فولیو اپنایا جائے جو جدید مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تجارت میں تنوع پیدا کرنا تھائی لینڈ کے مستقبل کے وژن کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا،
“ہم اب صرف گاڑیوں اور سی فوڈ تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ نئے اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں کو اپنانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے معاشی تعلقات کے لیے ایک نئی کہانی تخلیق کرنا چاہتے ہیں، جو جغرافیے کی قید سے آزاد اور مشترکہ معاشی اہداف پر مبنی ہو۔”


تھائی سفیر نے بتایا کہ تھائی لینڈ کی حکمتِ عملی میں خدمات کے شعبے، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مضبوط پیش رفت شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ حلال فوڈ انڈسٹری، حلال سیاحت اور دفاعی صنعت میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ای-پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کی مصنوعات کی فروخت کو فروغ دے رہا ہے، جس سے آمدن کے نئے اور اختراعی ذرائع پیدا ہوں گے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ، اقوامِ متحدہ کے ادارے UN Women Pakistan کے ساتھ مل کر خواتین کی زراعت اور گھریلو بیوٹی سیلون جیسے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ خواتین کو گھریلو سطح پر معاشی خودمختاری حاصل ہو سکے۔
انہوں نے کہا،
“یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہم ایک متحرک اور منصفانہ تجارتی تعلق قائم کرنے کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔”


پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان ممکنہ نئے معاہدوں یا مشترکہ منصوبوں سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر نے تصدیق کی کہ سب سے اہم اور انقلابی پیش رفت آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے۔
انہوں نے کہا،
“یہ محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک فریم ورک ہے جو ہمارے کاروبار کرنے کے انداز کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا۔”


انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے لیے ایف ٹی اے کا مطلب تھائی لینڈ سے خام مال کی کم لاگت پر درآمد، مقامی پیداوار میں بہتری اور مسابقت میں اضافہ ہوگا، جبکہ پاکستانی صارفین کو اعلیٰ معیار کی اشیاء کم قیمت پر دستیاب ہوں گی۔
ایف ٹی اے کے علاوہ، تھائی سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو مزید وسعت دینے کے لیے موجودہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کو وزرائے خارجہ کی قیادت میں ایک جامع مشترکہ کمیشن میں تبدیل کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے، جس سے تجارت کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات ممکن ہو سکے گی۔


دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں بہتری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ رابطہ کاری کسی بھی معاشی شراکت داری کی شہ رگ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ فضائی اور بحری روابط موجود ہیں، لیکن انہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء، افراد اور خیالات کی تیز رفتار نقل و حرکت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا،
“ہمیں کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہوگا اور سیاحت و کاروباری سفر کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازوں کے امکانات تلاش کرنا ہوں گے۔ فضائی سروسز کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لاجسٹکس اور شپنگ چینلز میں بہتری لا کر دونوں ممالک تجارت کی لاگت اور وقت کم کر سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے دونوں معیشتیں مزید پرکشش بنیں گی۔


انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ ممکنہ طور پر پیپر لیس کسٹمز کے پائلٹ منصوبوں سمیت تمام ممکنہ تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں تھائی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع سے متعلق سوال پر سفیر نے کہا کہ پاکستان کی بڑی اور نوجوان آبادی بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی اور معدنیات کے شعبوں کو خاص طور پر نمایاں کیا اور کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
دوسری جانب، انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے تھائی لینڈ ایک مینوفیکچرنگ اور جدت کا مرکز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ آسیان کے مرکز میں تھائی لینڈ کا محلِ وقوع پاکستانی کمپنیوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہے۔


آزاد تجارتی معاہدوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ ایسے معاہدے مستقبل کے معاشی تعلقات کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا،
“ایف ٹی اے ہماری دوطرفہ معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے اور اس کی تکمیل ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آسیان میں تھائی لینڈ کا کلیدی کردار اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کا اسٹریٹجک مقام ایک مضبوط ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔


انہوں نے کہا،
“ہم ‘لُک ویسٹ’ پالیسی کو فروغ دے رہے ہیں جو پاکستان کی ‘ویژن ایسٹ ایشیا’ پالیسی کی تکمیل کرتی ہے۔ ہم صرف دو ممالک کو نہیں جوڑ رہے بلکہ دو متحرک خطوں کے درمیان ایک پل تعمیر کر رہے ہیں۔”
آخر میں تھائی سفیر نے کہا کہ اگرچہ ابھی بہت سا کام باقی ہے، مگر اسے چیلنج نہیں بلکہ ایک عظیم موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ کا وژن چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری تعاون، عوامی روابط، اور سفارتی و سیکیورٹی اشتراک۔


انہوں نے کہا،
“ہم ان تمام شعبوں میں تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ایف ٹی اے مذاکرات میں تیزی، بزنس کونسلز کے درمیان تعاون، اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا آغاز ہماری فوری ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ دے کر ہم اپنی معاشی صلاحیت کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمری و گلیات برف باری، حسنِ فطرت اور حکومتی امتحان۔۔۔. عالمی بینک کے صدر اجے بنگا پاکستان پہنچ گئے، دس سالہ پارٹنرشپ پر پیشرفت متوقع بھٹو کو صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر پھانسی قانون کے منافی تھی: جسٹس محمد علی مظہر باڑہ سیاسی اتحاد کا تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنیوالے متاثرہ خاندانوں کی حمایت کا اعلان سوہاوہ میں سرکاری افسر پر قاتلانہ حملہ، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے جنگی فضا کے برخلاف امریکا کیساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، ایران پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں: محسن نقوی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ہے انہوں نے کہا انہوں نے مزید تھائی لینڈ کے کہ تھائی لینڈ تھائی سفیر نے پاکستان میں نے بتایا کہ پاکستان کے کہ پاکستان کے درمیان موجود ہیں میں تھائی ایف ٹی اے کے ساتھ رہے ہیں کرنے کے رہا ہے ہو سکے کے لیے

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان