آئندہ چند برسوں میں پاکستان کے ساتھ تجارت دگنی کی جائے گی: تھائی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
آئندہ چند برسوں میں پاکستان کے ساتھ تجارت دگنی کی جائے گی: تھائی سفیر WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)
پاکستان میں تعینات مملکتِ تھائی لینڈ کے سفیر، عزت مآب رونگ وُدھی ویرا بُتر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سے تین برسوں میں دگنا کرنے اور ایک مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھائی سرمایہ کاروں کے لیے بالخصوص تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔
ایک انٹرویو میں تھائی سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 1.
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ حلال تجارت میں بے پناہ امکانات دیکھتا ہے، جہاں تھائی لینڈ کی عالمی معیار کی حلال فوڈ انڈسٹری پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلب کو باآسانی پورا کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا،
“ہم پاکستان کی اعلیٰ معیار کی سمندری خوراک اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے بھی تھائی مارکیٹ میں بہتر رسائی کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔”
ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ روایتی اشیاء سے آگے بڑھ کر ایک متنوع تجارتی پورٹ فولیو اپنایا جائے جو جدید مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تجارت میں تنوع پیدا کرنا تھائی لینڈ کے مستقبل کے وژن کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا،
“ہم اب صرف گاڑیوں اور سی فوڈ تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ نئے اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں کو اپنانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے معاشی تعلقات کے لیے ایک نئی کہانی تخلیق کرنا چاہتے ہیں، جو جغرافیے کی قید سے آزاد اور مشترکہ معاشی اہداف پر مبنی ہو۔”
تھائی سفیر نے بتایا کہ تھائی لینڈ کی حکمتِ عملی میں خدمات کے شعبے، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مضبوط پیش رفت شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ حلال فوڈ انڈسٹری، حلال سیاحت اور دفاعی صنعت میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ای-پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کی مصنوعات کی فروخت کو فروغ دے رہا ہے، جس سے آمدن کے نئے اور اختراعی ذرائع پیدا ہوں گے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ، اقوامِ متحدہ کے ادارے UN Women Pakistan کے ساتھ مل کر خواتین کی زراعت اور گھریلو بیوٹی سیلون جیسے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ خواتین کو گھریلو سطح پر معاشی خودمختاری حاصل ہو سکے۔
انہوں نے کہا،
“یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہم ایک متحرک اور منصفانہ تجارتی تعلق قائم کرنے کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔”
پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان ممکنہ نئے معاہدوں یا مشترکہ منصوبوں سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر نے تصدیق کی کہ سب سے اہم اور انقلابی پیش رفت آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے۔
انہوں نے کہا،
“یہ محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک فریم ورک ہے جو ہمارے کاروبار کرنے کے انداز کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے لیے ایف ٹی اے کا مطلب تھائی لینڈ سے خام مال کی کم لاگت پر درآمد، مقامی پیداوار میں بہتری اور مسابقت میں اضافہ ہوگا، جبکہ پاکستانی صارفین کو اعلیٰ معیار کی اشیاء کم قیمت پر دستیاب ہوں گی۔
ایف ٹی اے کے علاوہ، تھائی سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو مزید وسعت دینے کے لیے موجودہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کو وزرائے خارجہ کی قیادت میں ایک جامع مشترکہ کمیشن میں تبدیل کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے، جس سے تجارت کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات ممکن ہو سکے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں بہتری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ رابطہ کاری کسی بھی معاشی شراکت داری کی شہ رگ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ فضائی اور بحری روابط موجود ہیں، لیکن انہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء، افراد اور خیالات کی تیز رفتار نقل و حرکت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا،
“ہمیں کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہوگا اور سیاحت و کاروباری سفر کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازوں کے امکانات تلاش کرنا ہوں گے۔ فضائی سروسز کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لاجسٹکس اور شپنگ چینلز میں بہتری لا کر دونوں ممالک تجارت کی لاگت اور وقت کم کر سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے دونوں معیشتیں مزید پرکشش بنیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ ممکنہ طور پر پیپر لیس کسٹمز کے پائلٹ منصوبوں سمیت تمام ممکنہ تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں تھائی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع سے متعلق سوال پر سفیر نے کہا کہ پاکستان کی بڑی اور نوجوان آبادی بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی اور معدنیات کے شعبوں کو خاص طور پر نمایاں کیا اور کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
دوسری جانب، انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے تھائی لینڈ ایک مینوفیکچرنگ اور جدت کا مرکز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ آسیان کے مرکز میں تھائی لینڈ کا محلِ وقوع پاکستانی کمپنیوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
آزاد تجارتی معاہدوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ ایسے معاہدے مستقبل کے معاشی تعلقات کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا،
“ایف ٹی اے ہماری دوطرفہ معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے اور اس کی تکمیل ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آسیان میں تھائی لینڈ کا کلیدی کردار اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کا اسٹریٹجک مقام ایک مضبوط ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا،
“ہم ‘لُک ویسٹ’ پالیسی کو فروغ دے رہے ہیں جو پاکستان کی ‘ویژن ایسٹ ایشیا’ پالیسی کی تکمیل کرتی ہے۔ ہم صرف دو ممالک کو نہیں جوڑ رہے بلکہ دو متحرک خطوں کے درمیان ایک پل تعمیر کر رہے ہیں۔”
آخر میں تھائی سفیر نے کہا کہ اگرچہ ابھی بہت سا کام باقی ہے، مگر اسے چیلنج نہیں بلکہ ایک عظیم موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ کا وژن چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری تعاون، عوامی روابط، اور سفارتی و سیکیورٹی اشتراک۔
انہوں نے کہا،
“ہم ان تمام شعبوں میں تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ایف ٹی اے مذاکرات میں تیزی، بزنس کونسلز کے درمیان تعاون، اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا آغاز ہماری فوری ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ دے کر ہم اپنی معاشی صلاحیت کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔”
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمری و گلیات برف باری، حسنِ فطرت اور حکومتی امتحان۔۔۔. عالمی بینک کے صدر اجے بنگا پاکستان پہنچ گئے، دس سالہ پارٹنرشپ پر پیشرفت متوقع بھٹو کو صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر پھانسی قانون کے منافی تھی: جسٹس محمد علی مظہر باڑہ سیاسی اتحاد کا تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنیوالے متاثرہ خاندانوں کی حمایت کا اعلان سوہاوہ میں سرکاری افسر پر قاتلانہ حملہ، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے جنگی فضا کے برخلاف امریکا کیساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، ایران پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں: محسن نقویCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ہے انہوں نے کہا انہوں نے مزید تھائی لینڈ کے کہ تھائی لینڈ تھائی سفیر نے پاکستان میں نے بتایا کہ پاکستان کے کہ پاکستان کے درمیان موجود ہیں میں تھائی ایف ٹی اے کے ساتھ رہے ہیں کرنے کے رہا ہے ہو سکے کے لیے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز