دہشتگردوں کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس، عدم استحکام اور انتشار پھیلانا تھا، خرم نواز گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک نے زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو صرف عسکری کامیابی سمجھنے کے بجائے انہیں امن و امان، عوامی اعتماد، معاشی ترقی اور سماجی انصاف کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کی جڑیں ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے مکالمے سے لے کر فیصلہ کن مقابلے تک تمام آپشنز بروئے کار لائے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیک وقت 12 مقامات پر دہشت گرد حملوں کی کوشش ناکام بنانا سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک اور بروقت فیصلہ سازی کا واضح ثبوت ہے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس، عدم استحکام اور انتشار پھیلانا تھا، تاہم ریاستی اداروں نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے امن سے کھیلنے والوں کے لیے اب کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 78 دہشت گردوں کا مارا جانا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ادارے یکسو اور متحد ہیں۔
سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک نے زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو صرف عسکری کامیابی سمجھنے کے بجائے انہیں امن و امان، عوامی اعتماد، معاشی ترقی اور سماجی انصاف کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کی جڑیں ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے مکالمے سے لے کر فیصلہ کن مقابلے تک تمام آپشنز بروئے کار لائے جائیں، کیونکہ دہشت گردی محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گمراہ کن فکر اور انتہا پسندانہ نظریہ ہے جس کا مقابلہ فکری، نظریاتی اور عملی تینوں محاذوں پر ضروری ہے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ بدقسمتی سے قوم نے فتنہ الخوارج کی اصل فکری اور نظریاتی حقیقت کو سمجھنے میں تقریباً چودہ قیمتی سال ضائع کر دیے، جس کا خمیازہ پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی قربانیوں کی صورت میں بھگتا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 2010ء میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف تاریخی فتویٰ جاری کر کے فتنہ الخوارج کی باطنی فکر، گمراہ کن نظریات اور اسلام دشمن ایجنڈے کو علمی، شرعی اور فکری بنیادوں پر بے نقاب کیا، مگر افسوس کہ اس فکری رہنمائی کو بروقت قومی پالیسی کا حصہ نہ بنایا جا سکا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج پوری قوم پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطن عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کا فخر ہیں۔ قوم شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے عزم و حوصلے کو سلام پیش کرتی ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کسی ابہام، کمزوری یا مصلحت کا مظاہرہ نہ کیا جائے بلکہ قومی یکجہتی، واضح بیانیے اور ریاستی رِٹ کے ساتھ اس فتنے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان ایک پرامن، محفوظ اور مستحکم ریاست کے طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خرم نواز گنڈاپور انہوں نے کہا کہ کہ دہشت گردی کے سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں سیکرٹری جنرل کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز