بھارت نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی ہم نے منصوبوں کو ناکام بنایا ؛ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے اہم گفتگو کی ۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا جو بھی دہشت گرد آیا، بچ کر نہیں گیا۔یہ دہشت گرد نارمل دہشت گرد نہیں۔بھارت نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی،بھارت بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں ،دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔سہولت کاروں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ایسے حملے ہمارا مورال کم نہیں کرسکتے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا چند سرفراز بگٹی اور ہوتے تو دہشت گردی دنوں میں ختم ہوجاتی۔دہشت گردوں نے پلان کرکے حملہ کیا۔ایف سی، فوج اور پولیس نے جس طرح ریسپانس دیا داستان ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بہترین ردعمل دیا،وزیرداخلہ کو مشکورہوں تمام مصروفیات چھوڑکربلوچستان پہنچے۔وزیرداخلہ نے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔گوادر میں بلوچ فیملی کی عورتوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔دہشت گردوں کا مورال گرچکا تھا۔دہشت مورال ہائی کرنے کیلئے ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔