ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں پاکستانی اسپنرز نے پہلی بار نیا کارنامہ سر انجام دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستانی اسپنرز نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایک نیا کارنامہ سر انجام دے دیا۔
آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں کھیلے گئے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے دوسرے مقابلے میں پاکستان نے نہ صرف 90 رنز سے بڑی فتح حاصل کی بلکہ سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری بھی اپنے نام کرلی۔
ہفتے کے روز کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم پاکستانی اسپنرز کے سامنے بے بس نظر آئی اور 16ویں اوور میں 108 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
اس میچ کی سب سے بڑی خاص بات یہ رہی کہ آسٹریلیا کی تمام 10 وکٹیں پاکستانی اسپنرز نے حاصل کیں، جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تاریخ میں پاکستان کا پہلا موقع ہے کہ ایک اننگز کی تمام وکٹیں اسپن بولرز کے نام رہیں۔
مزید پڑھیںدوسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دیکر سیریز جیت لی
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ پیر کو متوقع، پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی ملتوی
ابرار احمد اور شاداب خان نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین، تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عثمان طارق نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ صائم ایوب اور محمد نواز نے ایک، ایک وکٹ اپنے نام کی۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں یہ مجموعی طور پر دسواں موقع ہے کہ کسی اننگز کی تمام وکٹیں اسپنرز نے حاصل کیں، تاہم فل ممبر ممالک کے درمیان میچز میں یہ صرف دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل یہ اعزاز صرف بھارتی اسپنرز کو حاصل تھا، جنہوں نے 2022 میں فلوریڈا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں تمام 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
پاکستانی اسپنرز کی اس تاریخی کارکردگی نے نہ صرف ٹیم کی جیت کو یادگار بنا دیا بلکہ عالمی کرکٹ میں پاکستان کے اسپن اٹیک کی طاقت کو بھی ایک بار پھر ثابت کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔