پاکستان نے دوسرے ٹی 20 میں آسٹریلیا کو 90 رنز سے ہرا دیا، سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان نے دوسرے ٹی 20 میں آسٹریلیا کو 90 رنز سے ہرا دیا، سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )پاکستان نے 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلیگئے میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز اسکور کیے۔سلمان آغا 76 رنز بناکر نمایاں رہے۔جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم 16 ویں اوور میں 108 رنز بناکر آٹ ہوگئی۔
دوسرے ٹی ٹوٹنٹی میچ کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون میں 3 تبدیلیاں کی گئیں۔عثمان طارق، فہیم اشرف اور نسیم شاہ کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا جبکہ شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور فخر زمان کو آرام دیا گیا۔آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا آغاز اچھا نہ تھا، صاحبزادہ فرحان ایک بار پھر بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور صرف 5 رنز بناکر آٹ ہوگئے۔صائم ایوب 23 اور بابر بھی 2 رنز پر پویلین لوٹے۔ ایسے میں کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ درانہ اور برق رفتار اننگز کھیلی، انہوں نے 40 گیندوں پر 76 رنز بنائے۔
اس کے علاوہ عثمان خان نے بھی ففٹی اسکور کی اور وہ 36 گیندون پر 53 رنز پر آٹ ہوئے۔ شاداب خان 28 اور محمد نواز 9 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ پاکستان کے 199 رنز کے ہدف کے جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم گرین شرٹس کے اسپنرز کا سامنا نہ کرسکی اور یکے بعد دیگر وکٹیں گرتیں گئیں۔ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی ٹیم 15.
پاکستان کی جانب سے ابرار احمد اور شاداب خان نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔عثمان طارق نے 2، صائم ایوب اور محمد نواز نے ایک ایک کھلاڑی کو آٹ کیا۔یوں گرین شرٹس نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے آٹ کلاس کرتے ہوئے 3 میچز کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ برتری حاصل کرلی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے 7 سال بعد آسٹریلیا کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ نے ایران کو ڈیڈ لائن دیدی؛ امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات میں لنگرانداز ٹرمپ نے ایران کو ڈیڈ لائن دیدی؛ امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات میں لنگرانداز وادی تیراہ کی صورتحال پر باڑہ سیاسی اتحاد کا جرگہ، خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کر گئے،نماز جنازہ کل آبائی گائوں میں ادا کی جائے گی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی نااہل بھارتی حکومت کی ناکام سفارتکاری، ترقی کے دعوے چکنا چور تنازعات کے پر امن کیلئے تیار،سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے،پاکستانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔