data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل میڈیا بلاگر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پرانے سِم کارڈز اور دیگر مواصلاتی برقی آلات سے بڑی مقدار میں سونا حاصل کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بلاگر کا کہنا ہے کہ اس نے جدید کیمیکل اور سائنسی طریقوں کی مدد سے مختلف الیکٹرانک چپس کو پراسیس کیا اور بالآخر تقریباً 191 گرام سے زائد سونا جمع کرنے میں کامیاب رہا۔

بلاگر کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اس نے اسٹرانگ ایسڈ ڈِسولوشن اور الیکٹرولائٹک ری ڈکشن جیسے پیچیدہ کیمیائی مراحل اختیار کیے، جو عام افراد کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اس پورے عمل کی ویڈیو اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی، جسے اس نے ’’سِم الکیمی‘‘ کا نام دیا۔ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور لاکھوں صارفین نے اسے دیکھا، شیئر کیا اور اس پر تبصرے کیے۔

وائرل ویڈیو کے بعد کئی صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ 10 برس کی محنت مزدوری کے مقابلے میں کباڑ اکٹھا کرنا کہیں زیادہ فائدہ مند لگتا ہے جب کہ ایک اور صارف نے بلاگر سے درخواست کی کہ وہ اسے اس عمل میں شاگرد بنا لے۔ کئی افراد نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی علم نہیں تھا کہ سِم کارڈز جیسی عام چیز میں بھی قیمتی دھات موجود ہوتی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس دعوے کو مکمل طور پر قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ الیکٹرانکس کے ماہرین کے مطابق ایک عام سِم کارڈ میں سونے کی مقدار نہایت معمولی ہوتی ہے، جو تقریباً 0.

47 ملی گرام کے قریب بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے اگر صرف سِم کارڈز سے 191 گرام سونا حاصل کیا جائے تو اس کے لیے تقریباً 4 لاکھ سِم کارڈز درکار ہوں گے، جو بظاہر ایک مشکل اور غیر عملی کام دکھائی دیتا ہے۔

اس تنقید کے جواب میں بلاگر نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے صرف سِم کارڈز استعمال نہیں کیے بلکہ مختلف مواصلاتی اور برقی آلات میں موجود سونے سے ملمع شدہ چپس بھی شامل کیں۔ اس کے مطابق جدید الیکٹرانکس میں قیمتی دھاتیں محدود مقدار میں ضرور استعمال ہوتی ہیں، جنہیں درست طریقے سے نکالا جائے تو فائدہ ممکن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل سائنسی طور پر ممکن ہے، مگر عام افراد کے لیے نہ تو یہ محفوظ ہے اور نہ ہی معاشی طور پر فائدہ مند، کیونکہ کیمیائی مواد، وقت اور خطرات اس عمل کو غیر عملی بنا دیتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: س م کارڈز ہے کہ اس کے لیے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟