چینی بلاگر کا حیران کن دعویٰ، سِم کارڈز سے قیمتی سونا حاصل کرنے کا تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل میڈیا بلاگر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پرانے سِم کارڈز اور دیگر مواصلاتی برقی آلات سے بڑی مقدار میں سونا حاصل کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بلاگر کا کہنا ہے کہ اس نے جدید کیمیکل اور سائنسی طریقوں کی مدد سے مختلف الیکٹرانک چپس کو پراسیس کیا اور بالآخر تقریباً 191 گرام سے زائد سونا جمع کرنے میں کامیاب رہا۔
بلاگر کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اس نے اسٹرانگ ایسڈ ڈِسولوشن اور الیکٹرولائٹک ری ڈکشن جیسے پیچیدہ کیمیائی مراحل اختیار کیے، جو عام افراد کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اس پورے عمل کی ویڈیو اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی، جسے اس نے ’’سِم الکیمی‘‘ کا نام دیا۔ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور لاکھوں صارفین نے اسے دیکھا، شیئر کیا اور اس پر تبصرے کیے۔
وائرل ویڈیو کے بعد کئی صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ 10 برس کی محنت مزدوری کے مقابلے میں کباڑ اکٹھا کرنا کہیں زیادہ فائدہ مند لگتا ہے جب کہ ایک اور صارف نے بلاگر سے درخواست کی کہ وہ اسے اس عمل میں شاگرد بنا لے۔ کئی افراد نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی علم نہیں تھا کہ سِم کارڈز جیسی عام چیز میں بھی قیمتی دھات موجود ہوتی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس دعوے کو مکمل طور پر قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ الیکٹرانکس کے ماہرین کے مطابق ایک عام سِم کارڈ میں سونے کی مقدار نہایت معمولی ہوتی ہے، جو تقریباً 0.
اس تنقید کے جواب میں بلاگر نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے صرف سِم کارڈز استعمال نہیں کیے بلکہ مختلف مواصلاتی اور برقی آلات میں موجود سونے سے ملمع شدہ چپس بھی شامل کیں۔ اس کے مطابق جدید الیکٹرانکس میں قیمتی دھاتیں محدود مقدار میں ضرور استعمال ہوتی ہیں، جنہیں درست طریقے سے نکالا جائے تو فائدہ ممکن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل سائنسی طور پر ممکن ہے، مگر عام افراد کے لیے نہ تو یہ محفوظ ہے اور نہ ہی معاشی طور پر فائدہ مند، کیونکہ کیمیائی مواد، وقت اور خطرات اس عمل کو غیر عملی بنا دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: س م کارڈز ہے کہ اس کے لیے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار