معاہدوں کے تقدس اور عالمی امن کے تحفظ پر پاکستان کی سلامتی کونسل میں اہم نشست
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں معاہدوں کے تقدس اور عالمی امن کے تحفظ کے موضوع پر ایک اہم نشست کا انعقاد کیا، جس میں سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک نے شرکت کی۔
یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت آریا فارمولا کے تحت منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا: “بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے معاہدات کے تقدس کو برقرار رکھنا”۔
اجلاس میں ممتاز ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے بریفنگ دی۔ پینل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے قانونی امور کے ٹریٹیز سیکشن کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی، انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور سابق اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پرنس زید رعد الحسین، اور بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر و سابق ڈین پروفیسر عادل نجم شامل تھے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اگست 2025 میں عدالتِ ثالثی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے اس حقیقت کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کے تحت تنازعات کے حل کے طریقہ کار لازمی نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے بین الاقوامی معاہدات کو کمزور کرنا دنیا بھر میں مشترکہ وسائل، سرحدی نظم و نسق اور اعتماد سازی پر مبنی معاہدوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے، جس کے عالمی امن و سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔