پاکستان 7 سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی20 سیریز جیتنے میں کامیاب، اسپنرز نے بھی نیا ریکارڈ بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان کے اسپنرز نے ٹی20 کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ ایک میچ میں تمام 10 وکٹیں حاصل کرلیں، جبکہ پاکستان 7 سال بعد آسٹریلیا کو ٹی20 سیریز میں شکست دینے میں کامیاب رہا۔
مزید پڑھیں: دوسرا ٹی20: پاکستان نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی
ہفتے کو کھیلے گئے 3 میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹی20 میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔
پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹ کے نقصان پر 198 رنز بنائے، جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم صرف 16 اوورز میں 108 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
لاہور میں کھیلے گئے اس دوسرے میچ میں تمام 10 وکٹیں پاکستانی اسپنرز کے حصے میں آئیں، اور یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں کسی ایک ٹی ٹوئنٹی اننگز میں تمام وکٹیں اسپنرز نے حاصل کیں۔
ابرار احمد اور شاداب خان نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں، عثمان طارق نے 2 اور صائم اور نواز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
ٹی20 کی تاریخ میں یہ مجموعی طور پر دسواں موقع ہے جب کسی اننگز کی تمام وکٹیں اسپنرز کے نام ہوئیں، اور فل ممبرز کے درمیان یہ صرف دوسرا واقعہ ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ نہ ہو سکا، پلیئرز کٹ کی رونمائی مؤخر
اس سے پہلے بھارت نے 2022 میں فلوریڈا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ سنگ میل حاصل کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے 7 سال بعد آسٹریلیا کو ٹی20 سیریز مین شکست دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسپنرز پاک آسٹریلیا ٹی20 سیریز کارنامہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک ا سٹریلیا ٹی20 سیریز کارنامہ وی نیوز سٹریلیا کو پاکستان نے ٹی20 سیریز ا سٹریلیا حاصل کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔