Jasarat News:
2026-06-03@00:51:23 GMT

گھورنے کو نہیں ایک ساتھ تین طلاقوں کو جرم بنائیے

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260201-03-5
اسلامی معاشرے میں نکاح کو پاکیزہ رشتہ اور خاندان کو سماج کی بنیادی اکائی قرار دیا گیا ہے، جبکہ طلاق کو حلال میں سب سے ناپسندیدہ عمل کہا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان واقعی اسی اسلامی تصورِ معاشرہ پر کھڑا ہے یا ہم محض مذہب کا نام لے کر ایسے قوانین بنا رہے ہیں جو نہ اسلام کے قریب ہیں، نہ عدل کے تقاضوں پر پورا اُترتے ہیں اور نہ ہی معاشرتی حکمت کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ جن کا اصل مقصد عالمی اداروں اور بیرونی طاقتوں کو خوش کرنا نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت کمزور ہے، مگر اس کی وجہ اسلام نہیں بلکہ کرپشن، بدعنوانی، ناانصافی اور اسلامی شرعی نظام کے مطابق ریاست کا قائم نہ ہونا ہے۔ عورت یہاں اس لیے غیر محفوظ نہیں کہ شوہر اسے گھورتا ہے بلکہ اس لیے کہ تھانے بکتے ہیں، عدالتیں برسوں فیصلے نہیں کرتیں اور طاقتور ہر قانون سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ مسئلہ مرد کی ایک نظر نہیں بلکہ ریاست کی اندھی آنکھ ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی وہ پارلیمنٹ، جس کے بارے میں خود عوام یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ وہ فارم سینتالیس، دھاندلی اور اخلاقی بحران کے بوجھ تلے وجود میں آئی، یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ عورت کو تحفظ دینے جا رہی ہے۔ مگر کس طرح۔ ایسے قوانین بنا کر جو خاندان کو فوجداری مقدمہ بنا دیں، شوہر اور بیوی کے درمیان ہر اختلاف کو جیل اور عدالت تک لے جائیں اور عورت کو تحفظ دینے کے بجائے مزید تنہائی اور عدم تحفظ کی طرف دھکیل دیں۔

مغرب کی مثال دی جاتی ہے، مگر وہ بھی آدھی اور منافقانہ۔ برطانیہ جیسے مغربی معاشرے میں عورت کو مکمل قانونی، معاشی اور سماجی تحفظ حاصل ہے۔ وہ چاہے شوہر کے ساتھ رہے، بچوں کے ساتھ اکیلی زندگی گزارے یا بالکل آزاد ہو، ریاست ہر صورت اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ رہائش، مالی مدد، قانونی معاونت اور سماجی تحفظ وہاں محض نعرے نہیں بلکہ ریاستی ذمے داری ہیں۔ اسی لیے وہاں بیوی کو گھورنا جرم نہیں، طلاق کی بات کرنا جرم نہیں اور ازدواجی اختلاف کو فوجداری قانون میں تبدیل نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہاں قانون کا مقصد خاندان توڑنا نہیں بلکہ تنازع کم کرنا اور فرد کو سہارا دینا ہوتا ہے۔ اب پاکستان کو دیکھیے۔ یہاں عورت شوہر سے الگ ہو جائے تو نہ محفوظ رہائش ملتی ہے، نہ مستقل مالی سہارا اور نہ فوری انصاف۔ اس کے باوجود قانون ساز یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر شوہر گھورے گا تو جیل اور اگر طلاق کی بات کرے گا تو سزا۔ یہ کیسا تحفظ ہے اور کس عقل کی پیداوار ہے۔

پاکستان کے نئے قانون میں بیوی کو گھورنا جرم قرار دیا گیا ہے اور طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو فوجداری جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ وہ شقیں ہیں جو نہ صرف مغرب میں موجود نہیں بلکہ خود مغربی قانونی معیار کے مطابق غیر سنجیدہ اور غیر عملی سمجھی جاتی ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو گھورنے کے بعد مرد کو لاک اپ میں ڈال دینے سے عورت واقعی محفوظ ہو جائے گی۔ کیا دھمکی کو جرم بنا دینے سے گھر بچ جائیں گے۔ یا پھر ہر گھریلو جھگڑا ایک ایف آئی آر بن جائے گا اور ہر عورت ایک عدالتی فائل میں بدل دی جائے گی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب ان قوانین کے نتیجے میں عورت تنہا رہ جائے گی تو یہی ریاست، یہی عدالتیں اور یہی نظام خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ عورت نہ خاندان میں محفوظ رہے گی نہ ریاست میں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اسلامی حل کہاں ہے۔ اگر واقعی مقصد عورت اور خاندان کا تحفظ ہے تو قانون سازوں کو سب سے پہلے اس دھوکا دہی کا خاتمہ کرنا چاہیے تھا جس کے مطابق پاکستان کا قیام اسلامی نظریے کی بنیاد پر ہوا تھا اور یہاں قرآن و سنت کے مطابق نظام نافذ ہونا تھا۔ اگر نیت درست ہوتی تو سب سے پہلے وہ قوانین نافذ کیے جاتے جن میں عورت ہی نہیں بلکہ اس کے بچوں، شوہر، تمام انسانوں بلکہ جانوروں تک کے تحفظ کی ضمانتیں موجود ہیں۔

اسلامی حل یہ نہیں کہ گھورنے کو جرم بنا دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ عدل کو ریاست کی بنیاد بنایا جائے۔ اسلامی حل یہ ہے کہ اس شخص کو سزا دی جائے جو شریعت ِ محمدی کا مذاق اُڑاتے ہوئے ایک ہی سانس میں تین طلاق کے الفاظ زبان یا قلم سے نکال کر پورا گھر اجاڑ دیتا ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق اگرچہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، مگر یہ عمل خلاف سنت، سخت ناپسندیدہ اور تعزیری سزا کا مستحق ہے۔ رسول اکرمؐ نے بیک وقت طلاق کے الفاظ ادا کیے جانے پر شدید ناراضی کا اظہار فرمایا۔ سوال یہ ہے کہ گھورنے والے کے لیے جیل ہے مگر شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والا آزاد کیوں۔ یہ کیسا عدل ہے اور یہ کیسا اسلام ہے۔ کیا واقعی یہ قوانین عورت کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں یا عالمی مالیاتی اداروں کو خوش کرنے، بیرونی فنڈنگ کے حصول اور چندا دہندگان کے سامنے خود کو ترقی پسند ثابت کرنے کی کوشش ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خاندان کو توڑ کر کوئی معاشرہ مضبوط نہیں ہوتا۔ عورت کو حقیقی تحفظ تب ملتا ہے جب ریاست عادل ہو، قانون منصفانہ ہو اور شریعت کو مذاق نہیں بلکہ میزانِ عدل سمجھا جائے۔ نہ جانے وہ دن کب آئے گا جب اس ملک کے فیصلہ ساز یہ سچ دل سے تسلیم کریں گے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا واحد اور مستقل حل مکمل اسلامی نظام اور شرعی قوانین کے منصفانہ نفاذ میں ہے، اور جس دن یہ فیصلہ خلوص نیت سے کر لیا گیا اس دن آسمان سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی، زمین اپنی برکتیں اْگل دے گی اور یہ قوم امن، عدل اور حقیقی خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارے گی۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوال یہ ہے کہ نہیں بلکہ ہیں بلکہ کے مطابق عورت کو کے ساتھ اور یہ ہیں کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا