شب ِ برات کی حقیقت اور اہمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-03-7
شعبان 15 تاریخ پر پاکستانی مسلمان عبادات کا دن اور رات کو سمجھتے اور قرار دیتے ہیں حالانکہ اصل ایسے نہیں، عالم اسلام کے بہت بڑے مفکر، مصنف، مفسر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی نظر میں اس رات کی عبادت کے حوالے سے کوئی فضیلت نہیں ہے، مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں کہ: ’’شب ِ برات کو عموماً مسلمانوں کا ایک تہوار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے کچھ مراسم بھی مقرر کر لیے گئے ہیں جس کی شدت سے پابندی کی جاتی ہے۔ دھوم دھام کے لحاظ سے تو گویا محرم کے بعد اسی کا نمبر ہے۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ یہ خواہ مخواہ کا بناوٹی تہوار ہے۔ نہ قرآن میں اس کی کوئی اصلیت ہے، نہ حدیث میں، نہ صحابہ کرام کے دور کی تاریخ ہی میں اس کا کوئی پتا نشان ملتا ہے اور نہ ہی ابتدائی زمانے کے بزرگانِ دین ہی میں کسی نے اس کو اسلام کا تہوار قرار دیا ہے‘‘۔
دراصل اسلام ایک سیدھا اور معقول مذہب ہے جو انسان کو رسموں کی جکڑ بندیوں سے، کھیل تماشے کی بے فائدہ مشغولیتوں سے اور فضول کاموں میں وقت، محنت اور دولت کی بربادیوں سے بچا کر زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور ان کاموں میں آدمی کو مشغول کرنا چاہتا ہے جو دنیا اور آخرت کی فلاح اور بہبود کا ذریعہ ہوں۔ ایسے مذہب کی فطرت سے یہ بالکل بعید ہے کہ وہ سال میں ایک دن حلوے پکانے اور آتش بازیاں چھوڑنے کے لیے مخصوص کر دے اور آدمی سے کہے کہ تو مستقل طور پر ہر سال اپنی زندگی کے چند قیمتی گھنٹے اور اپنی محنت سے کمائے ہوئے بہت سے روپے ضائع کرتا رہا کر اور اس سے بھی زیادہ بعید یہ ہے کہ وہ کسی ایسی رسم کا انسان کو پابند بنائے جو صرف وقت اور روپیہ ہی برباد نہیں کرتی بلکہ بعض اوقات جانوں کو بھی ضائع کرتی ہے اور گھر تک پھونک ڈالتی ہے۔ اس قسم کی فضولیات کا حکم دینا تو درکنار، اگر ایسی کوئی رسم نبیؐ کے زمانے میں موجود ہوتی تو یقینا اس کو حکماً روک دیا جاتا اور جو ایسی رسمیں اس زمانے میں موجود تھی، ان کو روکا ہی گیا۔
جب ہم تلاش کرتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں اس خاص دن کے ساتھ کوئی مستند مذہبی عقیدہ وابستہ ہے یا کوئی لازمی عبادت مقرر ہے تو ہم کو اس کا بھی کوئی نشان نہیں ملتا۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی چیز ملتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ شعبان کی پندرھویں شب کو سیدہ عائشہؓ نے آپؐ کو بستر پر نہ پایا اور وہ آپؐ کو تلاش کرنے کے لیے نکلیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے بقیع کے قبرستان پہنچیں۔ وہاں آپ کو موجود پایا۔ وجہ دریافت کرنے پر آپؐ نے فرمایا کہ اس رات کو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے اور قبیلہ ٔ کلب کی بھیڑوں کے جس قدر بال ہیں اس قدر انسانوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔ لیکن حدیث کو امام ترمذی نے ضعیف قرار دیا ہے اور بیان کیا ہے کہ اس کی سند صحیح طور پر سیدہ عائشہؓ تک نہیں پہنچتی۔حدیث کی زیادہ معتبر کتابوں سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ رسولؐ پر رمضان کی آمد سے پہلے ہی شعبان کے مہینے میں ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبری جیسے عظیم الشان منصب پر مامور کیا گیا اور قرآن جیسی لازوال کتاب کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس وجہ سے نہ صرف رمضان میں آپ غیر معمولی طور پر عبادت فرمایا کرتے تھے بلکہ اس سے پہلے ہی آپ کی لَو خدا سے لگ جاتی تھی۔ سیدہ عائشہؓ اور سیدہ امِ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رمضان کے سِوا سال کے باقی گیارہ مہینوں میں صرف شعبان ہی ایسا مہینہ تھا جس میں آپ سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے، بلکہ تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے گزر جاتا تھا۔ لیکن آپ کا یہ طرز ِ عمل اپنی ذات کے لیے خاص تھا اور اس گہرے روحانی تعلق کی بنا پر تھا جو نزولِ قرآن کے مہینے سے آپ کو تھا۔ رہے عام مسلمان، تو ان کو آپ نے ہدایت فرما دی تھی کہ ماہِ شعبان کے آخری پندرہ دنوں میں روزے نہ رکھا کریں کیونکہ اس میں یہ اندیشہ تھا کہ اگر عادتاً لوگ اس مہینے کے آخری دنوں میں روزہ رکھنے لگے تو رفتہ رفتہ یہ ایک لازمی رسم بن جائے گی اور رمضان کے فرض روزوں پر خواہ مخواہ دس پندرہ مزید روزوں کا اضافہ ہو جائے گا اور اس طرح لوگوں پر وہ بار پڑ جائے گا جو خدا نے ان پر نہیں رکھا ہے۔
اسلام میں خاص طور پر یہ بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ جو کچھ خدا نے اپنے بندوں کے لیے لازم کیا ہے، اس کے سِوا کوئی دوسری چیز بندے خود اپنے اوپر لازم نہ کر لیں۔ خدا زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندوں کی بھلائی کن چیزوں میں ہے اور کس چیز کی کتنی پابندی میں ہے۔ اس کی قائم کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر کے اگر بندے بطور خود کچھ رسمیں مقرر کر لیں گے اور فرض کی طرح ان کی پابندی کریں گے تو اپنی زندگی کو آپ تنگ کر لیں گے۔ پچھلی قوموں نے یہی غلطی کی تھی کہ نئی نئی رسمیں ایجاد کر کے اپنے اوپر فرائض اور واجبات کے ردّے چڑھاتی چلی گئیں اور رفتہ رفتہ رسمیات کا ایک ایسا تانا بانا اپنے گردن پر بْن ڈالا جس کے جال نے آخرکار ان کے ہاتھ پائوں جکڑ کر رکھ دیے۔ابتدائی زمانے میں جو لوگ شریعت ِ محمدی کی روح کو سمجھتے تھے وہ سختی کے ساتھ اس اصول کے پابند رہے۔ انہوں نے نئی رسمیں ایجاد کرنے سے انتہائی پرہیز کیا اور جو چیز لازمی رسم بنتی نظر آئی اس کی فوراً جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ انہیں معلوم تھا کہ ایک چیز جس کو نیکی اور ثواب کا کام سمجھ کر ابتدا میں بڑی نیک نیتی کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے، وہ رفتہ رفتہ کس طرح سنت، پھر واجب، پھر فرض اور آخرکار فرضوں سے بھی زیادہ اہم بنتی چلی جاتی ہے اور جہالت کی بنا پر لوگ اس نیکی کے ساتھ کس طرح بہت سی برائیاں ملا جلا کر ایک قبیح رسم بنا ڈالتے ہیں اور اس قسم کی رسمیں جمع ہو کر کس طرح انسانی زندگی کے لیے ایک وبال اور انسانی ترقی کی راہ میں ایک بھاری رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ اس لیے ابتدائی دَور کے علماء اور امام اس بات کی سخت احتیاط رکھتے تھے کہ شریعت میں کسی نئی چیز کا اضافہ نہ ہونے پائے۔ لیکن افسوس ہے کہ بعد کی صدیوں میں اس طرف سے انتہائی غفلت برتی گئی اور بتدریج مسلمان بھی اپنی خود ساختہ رسموں کے جال میں اسی طرح پھنستے چلے گئے جس طرح دنیا کی دوسری قومیں پھنسی ہوئی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یہ ہے کہ کے ساتھ ہے اور کے لیے اور اس
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔