100 سال پرانے زمین کا انتقال ریکارڈ کرنے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے 100 سال سے زائد پرانے زمین کے انتقالات کو سرکاری ریکارڈ میں درج کرانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ اتنی طویل مدت گزر جانے کے بعد محض اسے ’معمولی غلطی‘ قرار دے کر ریکارڈ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزاروں نے ان زمینوں کے انتقالات کو پہلی بار سن 2020 میں سرکاری ریکارڈ میں درج کرانے کے لیے رجوع کیا، حالانکہ یہ انتقالات 1907 اور 1913 سے متعلق تھے جن پر اس وقت عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق، ایک صدی کے دوران اس زمین کے متعدد نئے مالکان بن چکے ہوں گے، جن کے حقوق اس مرحلے پر ریکارڈ میں تبدیلی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ طویل عرصے بعد ریکارڈ میں تبدیلی کو معمولی یا تکنیکی غلطی کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ ریونیو افسر کا دائرہ اختیار محض ریکارڈ رکھنے تک محدود ہے اور وہ زمین کی ملکیت سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں۔
مزید پڑھیں: آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت کے ساتھ کی جائے گی، چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین
عدالت کے مطابق پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریونیو حکام صرف ایسی غلطیوں کی درستی کر سکتے ہیں جن پر کوئی بڑا یا پیچیدہ تنازع موجود نہ ہو۔
فیصلے میں کہا گیا کہ زمین کی اصل ملکیت کا تعین کرنا صرف دیوانی عدالت کا اختیار ہے اور جب معاملہ پیچیدہ ہو جائے اور شواہد کی جانچ درکار ہو تو ہائیکورٹ بھی رِٹ پٹیشن کے دائرے میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے اس پہلو پر بھی سوال اٹھایا کہ درخواست گزاروں کے آباؤ اجداد نے اپنی زندگی میں یا ان کے بعد ایک صدی یعنی 2020 تک خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کردی۔
واضح رہے کہ درخواست گزاروں کے آباؤ اجداد کے حق میں یہ انتقالات ایک صدی قبل سول کورٹ کی ڈگری کی بنیاد پر منظور ہوئے تھے، تاہم ان پر بروقت عملدرآمد نہ ہو سکا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آباؤ اجداد آئینی عدالت بورڈ آف ریونیو پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ تکنیکی ڈگری رٹ پٹیشن سرکاری ریکارڈ سول کورٹ لاہور ہائیکورٹ ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت بورڈ آف ریونیو پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ تکنیکی ڈگری رٹ پٹیشن سرکاری ریکارڈ سول کورٹ لاہور ہائیکورٹ ہائیکورٹ ا ئینی عدالت ریکارڈ میں عدالت نے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔