لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
ضلع کچہری لاہور نے بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے میں ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس مگھیانہ نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت پولیس نے گرفتار 5 ملزمان کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا۔
جج شفقت عباس نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آپ نے 4 دنوں میں کیا تفتیش کی ہے، گزشتہ سماعت کا آرڈر واضح لکھا تھا کہ تفتیش کیسے کرنی ہے۔
متوفیہ کے والد ساجد حسین سے کمرۂ عدالت میں صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو 1 کروڑ روپے کا چیک مل گیا ہے؟
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے تفتیش کی مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ متعلقہ محکموں کو لیٹر لکھ دیے ہیں۔
جج شفقت عباس نے تفتیشی افسر سے کہا کہ 2 قتل ہوئے ہیں، آپ آرام سے بیٹھے ہیں کچھ تفتیش کر کے نہیں لائے، آپ نے لیٹر کیوں لکھنے تھے آپ نے خود تفتیش کرنی تھی، اگر واسا کی ذمے داری تھی تو آپ نے تفتیش کر کے عدالت کو بتانا تھا، اس طرح تو پولیس کے لیے 14 روز جسمانی ریمانڈ بھی کم ہے۔
ملزمان کے وکیل نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عثمان یاسین نے ایس پی آفس میں خود گرفتاری دی اور ایک کروڑ روپے کا چیک دیا۔
عدالت نے متوفیہ کے شوہر مرتضیٰ سے سوال کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
مرتضیٰ نے کہا کہ وہاں پر لائٹس کا انتظام ہوتا اور مین ہول کور ہوتا تو میرا گھر نہ ختم ہوتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تفتیشی افسر
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔